اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بجلی کے اس سلیب نظام کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ماہانہ استعمال 200 یونٹ سے ایک یونٹ بھی بڑھنے پر صارف زیادہ ٹیرف میں چلا جاتا ہے اور چھ ماہ تک محفوظ صارف کی رعایت سے محروم رہتا ہے۔ وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے سینیٹ میں بتایا کہ وزارت اس طریقہ کار کے خاتمے اور سبسڈی کو حقیقی مستحق گھرانوں تک محدود کرنے کے نئے نظام پر کام کر رہی ہے۔

اویس لغاری نے مسلم لیگ ن کے سینیٹر عابد شیر علی کے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ موجودہ چھ ماہ کی پابندی صارفین کے لیے حقیقی مسئلہ ہے۔ سینیٹر نے ایوان کو بتایا کہ 200 سے 201 یونٹ ہونے پر فی یونٹ نرخ میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے اور ایک اضافی یونٹ کی وجہ سے کم آمدن صارف کئی ماہ تک زیادہ بل ادا کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔

وزیر توانائی کے مطابق حکومت دو عبوری آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔ ایک تجویز محفوظ صارفین کی حد 200 سے بڑھا کر 250 یونٹ کرنے کی ہے۔ دوسری تجویز یہ ہے کہ چھ ماہ کی نااہلی ختم کر دی جائے اور جس مہینے صارف کا استعمال 200 یونٹ یا اس سے کم ہو، اسے اسی مہینے محفوظ کیٹیگری کا فائدہ مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کو حتمی شکل دینے میں تقریباً ڈیڑھ ماہ لگ سکتا ہے۔

حکومت کا زیادہ بنیادی منصوبہ سبسڈی کو بجلی کے استعمال کے بجائے گھرانے کی آمدن اور غربت کی سطح سے منسلک کرنا ہے۔ وزیر کے مطابق گزشتہ دو برس میں محفوظ صارفین کی تعداد تقریباً ایک کروڑ سے بڑھ کر دو سے ڈھائی کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے اس اضافے کی ایک وجہ گھریلو سولر سسٹمز کو قرار دیا، کیونکہ بعض نسبتاً خوشحال صارفین اپنی گرڈ سے کھپت 200 یونٹ تک محدود کرکے وہ رعایت حاصل کر رہے ہیں جو کم آمدن طبقے کے لیے بنائی گئی تھی۔

اویس لغاری نے بتایا کہ محفوظ صارفین کو فی یونٹ تقریباً 13 روپے کی سبسڈی ملتی ہے اور مجموعی رعایت تقریباً 65 فیصد تک بنتی ہے۔ مجوزہ ہدفی نظام میں حکومت کا ارادہ ہے کہ یہ مدد غربت کی لکیر سے نیچے اور نچلے متوسط آمدن والے گھرانوں تک محدود کی جائے۔ ابھی اس نئے نظام کے لیے اہلیت کے حتمی پیمانے یا ڈیٹا کے استعمال کی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔

وزیر نے پاور سیکٹر کی مالی صورتحال پر بھی بات کی اور کہا کہ گردشی قرضہ تقریباً 1.6 سے 1.67 ٹریلین روپے تک آ گیا ہے اور اسے چار برس میں ختم کرنے کا ہدف ہے۔ ان کے مطابق بجلی چوری اور عدم وصولی سمیت تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں بھی کمی ہوئی ہے، تاہم ان اصلاحات کا مکمل مالی فائدہ ابھی صارفین کے بلوں میں منتقل نہیں ہوا۔

حکومت کی جانب سے سلیب نظام ختم کرنے کا اعلان پالیسی سمت کی وضاحت ہے، لیکن نئے نرخ، اہلیت اور نفاذ کی تاریخ ابھی حتمی نہیں۔ اس لیے صارفین کے موجودہ بل اس وقت تک نافذ قواعد کے مطابق ہی بنیں گے جب تک باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوتا۔