اپ اسکیلنگ گرین پاکستان پروگرام کے جنگلی حیات سے متعلق حصے میں خیبر پختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر میں 165 دیہی تحفظ کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ مالی سال 2019 سے مالی سال 2025-26 کی تیسری سہ ماہی تک آزاد کشمیر میں 115 اور خیبر پختونخوا میں 50 کمیٹیاں بنائی گئیں۔ رپورٹ میں اس مخصوص سرگرمی کے تحت پنجاب، سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں کوئی کمیٹی درج نہیں کی گئی۔

دیہی تحفظ کمیٹیوں کا مقصد مقامی آبادی کو جنگلی حیات اور قدرتی مساکن کے تحفظ میں شریک کرنا ہے۔ ایسے انتظامات میں مقامی معلومات، غیر قانونی شکار یا تجارت کی نشاندہی، پانی اور چراگاہ کے دباؤ کی نگرانی اور ماحول دوست معاشی سرگرمیوں کے لیے برادری کی شرکت اہم ہو سکتی ہے۔ تاہم کمیٹی قائم ہونے کا عدد خود بخود فعال نگرانی یا بہتر حیاتیاتی نتائج ثابت نہیں کرتا؛ اس کے لیے باقاعدہ اجلاس، وسائل، تربیت اور قابل پیمائش زمینی نتائج ضروری ہوں گے۔

رپورٹ میں پروگرام کے وسیع تر کاموں میں محفوظ علاقوں کا قیام، انتظامی منصوبے، سروے، چیک پوسٹیں، مقامی تحفظ منصوبے، جنگلی جانوروں کے لیے پانی کے مقامات، افزائش مراکز، ماحولیاتی سیاحت اور غیر قانونی تجارت کی روک تھام شامل بتائی گئی ہے۔ فراہم کردہ صوبائی و علاقائی تفصیل میں پنجاب کے 65، خیبر پختونخوا کے 29، بلوچستان کے 2، آزاد کشمیر کے 2 اور گلگت بلتستان کے 16 نئے محفوظ علاقوں کا ذکر ہے۔ رپورٹ نے مجموعی عدد 131 بتایا، لیکن دی گئی علاقائی فہرست اس مجموعے کی پوری تقسیم فراہم نہیں کرتی؛ اس لیے باقی تعداد کو کسی علاقے سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔

انتظامی منصوبوں کی تعداد 70 بتائی گئی ہے، جن میں گلگت بلتستان کے 32، آزاد کشمیر کے 20، خیبر پختونخوا کے 14، پنجاب کے 3 اور بلوچستان کا ایک منصوبہ شامل ہے۔ نگرانی اور نفاذ کے لیے 52 چیک پوسٹیں اور 148 سروے رپورٹ کیے گئے۔ مقامی سطح کے 247 منصوبوں میں 197 بلوچستان اور 50 خیبر پختونخوا میں درج ہیں۔ یہ اعداد سرگرمیوں کا ریکارڈ پیش کرتے ہیں، لیکن ہر منصوبے کے معیار، موجودہ فعالیت یا آزادانہ اثراتی جائزے کی مکمل تفصیل خبر میں شامل نہیں۔

جنگلی حیات کے لیے 1,145 پانی کے مقامات بنانے یا بحال کرنے کی اطلاع دی گئی، جن میں بلوچستان کے 980، خیبر پختونخوا کے 120 اور گلگت بلتستان کے 45 مقامات شامل ہیں۔ مزید 31 ماحولیاتی سیاحت اقدامات، 24 افزائش مراکز، فضلے سے متعلق 47 مداخلتیں اور یونیسکو کے لیے 6 دستاویزی ڈوزیئرز کی تیاری بھی رپورٹ ہوئی ہے۔ پروگرام سے 4,939 گرین روزگار مواقع پیدا ہونے کا عدد بھی سرکاری پیش رفت میں شامل کیا گیا۔

اپ اسکیلنگ گرین پاکستان پروگرام 2019 میں شروع ہوا تھا اور اس کا جنگلی حیات حصہ مختلف صوبائی اور علاقائی اداروں کے تعاون سے چلایا جاتا ہے۔ رپورٹ شدہ اعداد قومی سطح پر سرگرمی کے پھیلاؤ کو ظاہر کرتے ہیں، مگر دیرپا کامیابی کا بہتر پیمانہ جنگلی انواع کی آبادی، مساکن کی صحت، غیر قانونی شکار میں کمی، مقامی آمدن اور کمیٹیوں کی مسلسل فعالیت ہوگا۔ مستقبل میں علاقے وار نتائج اور آزاد نگرانی کی اشاعت ان اقدامات کی مؤثریت جانچنے میں مدد دے سکتی ہے۔

— اردو ہیڈ لائنز ڈیسک