راولپنڈی اور اسلام آباد میں منگل کی صبح موسلا دھار بارش کے بعد متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا، ٹریفک متاثر ہوئی اور نالہ لئی میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہونے پر متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔ راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے صورتحال کے پیش نظر تعلیمی اداروں کے لیے مقامی تعطیل کا اعلان کیا اور شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی۔

پاکستان محکمہ موسمیات کے مطابق نالہ لئی میں کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 29 فٹ اور گوالمنڈی میں 23.5 فٹ تک پہنچ گئی۔ کیچمنٹ علاقوں میں تقریباً 200 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہونے کے بعد کٹاریاں اور گوالمنڈی کے اطراف انخلا کا عمل شروع کیا گیا۔ شدید بارش سے نالوں اور برساتی گزرگاہوں میں بہاؤ بڑھا اور قریبی آبادیوں میں پانی داخل ہونے کا خطرہ پیدا ہوا۔

محکمہ موسمیات کے صبح 8 بج کر 20 منٹ تک کے اعداد و شمار کے مطابق سیدپور میں 104 ملی میٹر، گولڑہ میں 157 ملی میٹر، بوکرا میں 72 ملی میٹر اور اسلام آباد میں ایچ ایٹ کے قریب محکمہ موسمیات کے مقام پر 155 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ راولپنڈی میں شمس آباد میں 201 ملی میٹر، پیرودھائی میں 86 ملی میٹر اور نیو کٹاریاں میں 186 ملی میٹر بارش رپورٹ کی گئی۔ مختلف مقامات پر بارش کی مقدار میں نمایاں فرق نے مقامی نکاسی آب کے نظام پر دباؤ بڑھایا۔

ضلعی انتظامیہ، واسا، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور دیگر متعلقہ ٹیموں کو فیلڈ میں موجود رہنے اور ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کی ہدایت دی گئی۔ گزشتہ روز بھی جڑواں شہروں میں بارش سے سڑکوں اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوا تھا، جس کے بعد حکام نے مون سون کے جاری سلسلے کے باعث تیاری بڑھا دی تھی۔ ٹریفک پولیس کو پانی جمع ہونے والے مقامات پر متبادل راستوں اور آمدورفت کی روانی برقرار رکھنے کے انتظامات کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔

محکمہ موسمیات نے اس سے قبل بالائی پنجاب، پوٹھوہار، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، کشمیر اور ملحقہ پہاڑی علاقوں میں بارش، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بعض مقامات پر شدید بارش کی پیش گوئی کی تھی۔ موجودہ صورتحال میں حکام کی توجہ نالہ لئی کے بہاؤ، نشیبی آبادیوں کے تحفظ اور نکاسی آب پر مرکوز ہے، جبکہ شہریوں سے برساتی نالوں اور پانی جمع ہونے والے راستوں سے دور رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔