نیپال اور چین کی سرحدی ہمالیائی پٹی میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ نیپال کی ڈیزاسٹر اتھارٹی کے مطابق ملک میں کم از کم 987 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ چینی سرکاری میڈیا نے تبت میں 16 ہلاکتوں کی تصدیق کی، جس سے مجموعی تعداد 1,003 ہوگئی۔
ریسکیو آپریشن کے ساتویں روز نیپال میں لاپتہ افراد کی تعداد کم ہو کر 3,916 بتائی گئی، جبکہ چین میں 546 افراد لاپتہ ہیں۔ اس طرح دونوں جانب مجموعی طور پر 4,462 افراد کا سراغ نہیں مل سکا۔ نیپال میں لاپتہ افراد میں 30 سے زیادہ ممالک کے 583 غیر ملکی بھی شامل ہیں، جبکہ چین میں 23 ممالک کے 261 غیر ملکی لاپتہ بتائے گئے ہیں۔ اعداد و شمار جاری سرچ آپریشن کے باعث تبدیل ہو سکتے ہیں۔
نیپالی وزیراعظم بالیندر شاہ نے کہا ہے کہ بھوٹے کوشی دریا میں آنے والا سیلاب معمول کا واقعہ نہیں تھا بلکہ ہمالیائی علاقے میں برف اور برفانی تودے کے بڑے انہدام سے پیدا ہونے والی غیر معمولی آفت تھی۔ انہوں نے اسے موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ بڑھتے خطرات سے جوڑتے ہوئے عالمی برادری سے زیادہ مؤثر موسمیاتی اقدام کا مطالبہ کیا۔ تاہم تباہی کے عین ابتدائی محرک کی سائنسی وجہ ابھی مکمل طور پر واضح نہیں اور ماہرین اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔
سائنس دان طویل عرصے سے خبردار کرتے رہے ہیں کہ بڑھتے عالمی درجہ حرارت کے باعث ہمالیہ اور ہندوکش کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے برفانی جھیلوں، لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک سیلاب کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ یہ پہاڑی نظام تقریباً 24 کروڑ پہاڑی باشندوں کے لیے براہ راست پانی کا ذریعہ ہے جبکہ جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کی زیریں وادیوں میں مزید تقریباً 1.65 ارب افراد اس سے نکلنے والے دریائی نظاموں پر انحصار کرتے ہیں۔
نیپالی ریسکیو ٹیموں نے دور دراز علاقوں تک پہنچنے کے لیے عارضی پل بنائے اور تباہ شدہ پن بجلی منصوبوں میں پھنسے کارکنوں کو نکالنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ حکام کے مطابق تقریباً 300 پھنسے کارکنوں کو بچایا گیا جبکہ متعدد متاثرہ پن بجلی تنصیبات میں سینکڑوں افراد تک رسائی اب بھی مشکل ہے۔ وزیراعظم شاہ نے کہا کہ 11 ہزار سے زیادہ افراد کو متاثرہ علاقوں سے نکالا جا چکا ہے اور بعض مقامات پر بجلی، مواصلات اور سڑک رابطے بحال کیے گئے ہیں۔ بھارت اور چین سمیت ہمسایہ ممالک بھی امدادی کارروائیوں میں معاونت کر رہے ہیں۔




