اسلام آباد میں نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر میں ہونے والے قومی ہنگامی ردعمل کمیٹی کے 17ویں اجلاس میں متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں کو مون سون کے موجودہ مرحلے کے دوران رابطہ، پیشگی اطلاع اور زمینی تیاری مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی، جبکہ یہ اجلاس وزیراعظم کی ہدایت پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے طلب کیا تھا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ شمالی علاقوں میں 4 ستمبر تک بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ شہری سیلاب اور اچانک طغیانی کے خطرے سے دوچار اضلاع، پوٹھوہار کے خطے، دریائے چناب اور جہلم کے کیچمنٹ علاقوں اور شمال مشرقی پنجاب کی صورت حال پر خصوصی توجہ دینے کو کہا گیا۔ یہ پیش گوئی ممکنہ خطرے کی نشاندہی ہے؛ کسی مخصوص مقام پر نقصان یا انخلا کا حتمی اعلان متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور مجاز اداروں کی تازہ ہدایات سے مشروط ہوگا۔

وفاقی وزیر نے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ موسمی انتباہ محض مرکزی سطح تک محدود نہ رہے بلکہ بروقت ضلع، تحصیل اور خطرے سے دوچار آبادیوں تک پہنچے۔ امدادی ٹیموں، ریسکیو سازوسامان، مواصلاتی ذرائع اور ضروری سامان کو پہلے سے ایسی جگہوں پر رکھنے پر زور دیا گیا جہاں سے ہنگامی صورت حال میں فوری رسائی ممکن ہو۔ اجلاس میں وزارت آبی وسائل، این ڈی ایم اے، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز، محکمہ موسمیات اور دیگر متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

راولپنڈی کی انتظامیہ نے نالہ لئی اور ملحقہ حساس علاقوں کے انتظامات پر بریفنگ دی۔ رپورٹ کے مطابق سول ڈیفنس، پولیس اور ریسکیو 1122 کو ممکنہ انخلا اور امدادی کارروائیوں کے لیے تیار رکھا گیا ہے، جبکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور خطرے والے مقامات پر فوری ردعمل کے انتظامات بھی زیر نگرانی ہیں۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ مقامی اداروں کو پانی کی سطح، بارش اور سڑکوں کی حالت کے مطابق بروقت عملی فیصلے کرنا ہوں گے۔

اجلاس میں پیشگی امدادی ذخائر، فعال رابطہ نظام اور اداروں کے درمیان معلومات کے مسلسل تبادلے کو بنیادی حفاظتی ضرورت قرار دیا گیا۔ صوبائی اور ضلعی حکام سے کہا گیا کہ وہ حساس آبادیوں کی نشاندہی، ممکنہ انخلا کے راستوں، عارضی پناہ گاہوں اور ریسکیو اہلکاروں کی دستیابی کا ازسرنو جائزہ لیں۔ شہریوں کے لیے بھی یہی محفوظ راستہ ہے کہ وہ محکمہ موسمیات، این ڈی ایم اے، صوبائی اداروں اور ضلعی انتظامیہ کی مصدقہ ہدایات پر عمل کریں اور غیر مصدقہ پیغامات سے گریز کریں۔

کمیٹی کی ہدایات تیاری اور خطرے میں کمی کے لیے ہیں؛ رپورٹ میں کسی نئی ہلاکت، بڑے نقصان یا ملک گیر ہنگامی حالت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اصل توجہ اس بات پر ہے کہ بارش کے اگلے مرحلے میں ادارے پیشگی اقدام کریں، کمزور مقامات کی نگرانی جاری رکھیں اور ضرورت پڑنے پر لوگوں تک وارننگ اور امداد بلا تاخیر پہنچائیں۔

— اردو ہیڈ لائنز ڈیسک