ہیگ میں قائم ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کی قانونی حیثیت سے متعلق فیصلہ اور ریتلے پن بجلی منصوبے پر عبوری اقدامات کا حکم جاری کر دیا ہے۔ مستقل ثالثی عدالت کے سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ کارروائی پاکستان کی جانب سے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کے خلاف شروع کیے گئے مقدمے کا حصہ ہے۔ عدالت نے معاہدے کی حیثیت پر ایوارڈ اور ریتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ سے متعلق عبوری حکم جاری کیا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق عدالت نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ معاہدہ نافذ ہے اور اسے یک طرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔

رپورٹ کے مطابق عدالت نے بھارت کو ریتلے منصوبے کی ڈیم دیوار اور بجلی کے انٹیک ڈھانچے پر مخصوص سطح سے اوپر کنکریٹ ڈالنے سے عارضی طور پر روک دیا ہے۔ یہ پابندی غیر جانب دار ماہر کے حتمی فیصلے کے 90 دن بعد تک برقرار رہنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ اس فیصلے کی توقع تقریباً جولائی 2027 میں بیان کی گئی ہے۔ بھارت کو تعمیراتی شیڈول سے متعلق رپورٹنگ جاری رکھنے کا بھی کہا گیا۔ حکم پورے منصوبے کی مستقل منسوخی نہیں بلکہ مخصوص تعمیراتی حدود سے متعلق عبوری اقدام ہے۔

ثالثی عدالت نے معاہدوں کی پاسداری کے بنیادی قانونی اصول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے پاس معاہدے یا رائج بین الاقوامی قانون کے تحت اسے یک طرفہ طور پر معطل یا ختم کرنے کی بنیاد نہیں۔ رپورٹ میں عدالت کے فیصلے کے حوالے سے بتایا گیا کہ خودمختاری، سرحد پار دہشت گردی کے الزامات یا حالات میں بنیادی تبدیلی جیسے دلائل معاہدے کی پابندی ختم کرنے کے لیے کافی نہیں سمجھے گئے۔ عدالت نے مغربی دریاؤں پر پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق معاہدے کی ذمہ داریوں کی پابندی پر بھی زور دیا۔

پاکستانی حکومت نے فیصلے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ وہ ایوارڈ کی تفصیلات کا جائزہ لے کر دونوں ملکوں کو معاہدے کے تحت دوبارہ باضابطہ رابطے کی طرف لانے کے امکانات پر غور کرے گی۔ پاکستانی بیان کے مطابق عبوری حکم ریتلے منصوبے کی تعمیر کو مخصوص سطح سے آگے بڑھانے سے روکتا ہے۔ دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ نے ثالثی عدالت کے دائرۂ اختیار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکم کا اس کے منصوبوں پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ اس اختلاف کے باعث فیصلے کے عملی نفاذ اور دونوں ملکوں کے آئندہ طرزِ عمل پر توجہ رہے گی۔

سندھ طاس معاہدہ 19 ستمبر 1960 کو طے پایا تھا اور چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے دریائی پانی کی تقسیم کا بنیادی فریم ورک ہے۔ بھارت نے اپریل 2025 میں پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے بعد معاہدے کو التوا میں رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان اس اقدام کو معاہدے کے منافی قرار دیتا رہا ہے اور پانی کے ضروری اعداد و شمار کی فراہمی بحال کرنے کا مطالبہ بھی کر چکا ہے۔ موجودہ ایوارڈ معاہدے کی قانونی حیثیت اور عبوری تعمیراتی تحفظ سے متعلق ہے؛ بنیادی تکنیکی اختلافات پر تمام حتمی فیصلے ابھی مکمل نہیں ہوئے۔

مستقل ثالثی عدالت اس بین الریاستی مقدمے میں سیکریٹریٹ کے طور پر کام کر رہی ہے اور مقدمہ ابھی زیرِ سماعت درج ہے۔ اس لیے سرکاری اعلامیے اور دستیاب رپورٹ سے اتنی بات تصدیق ہوتی ہے کہ معاہدے کی حیثیت پر ایوارڈ جاری ہوا، ریتلے منصوبے پر مخصوص عبوری پابندیاں لگائی گئیں، پاکستان نے اسے قبول کیا اور بھارت نے دائرۂ اختیار مسترد کیا۔ آئندہ مرحلے میں مکمل ایوارڈ، غیر جانب دار ماہر کا فیصلہ اور فریقین کا عملی ردعمل اس تنازع کی سمت واضح کریں گے۔

— اردو ہیڈ لائنز ڈیسک