بلوچستان اسمبلی نے بچوں سے مشقت، تولیدی صحت کے حقوق اور مختلف اضلاع میں محفوظ گھروں کے قیام سے متعلق قانون سازی منظور کی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ایوان نے بلوچستان ایمپلائمنٹ آف چلڈرن (پروہیبیشن اینڈ ریگولیشن) ترمیمی بل 2026 اور بلوچستان پروٹیکشن اینڈ پروموشن آف ری پروڈکٹیو ہیلتھ کیئر رائٹس بل 2026 منظور کیے۔ اس کے علاوہ مختلف اضلاع میں محفوظ گھر قائم کرنے کے لیے ایک الگ بل بھی منظور کیا گیا۔

رپورٹ میں منظور شدہ بلوں کے مکمل متن، نفاذ کی تاریخ، قواعد، بجٹ یا ذمہ دار محکموں کی تفصیلی دفعات شامل نہیں۔ اسی لیے ان اقدامات کو اسمبلی سے منظور ہونے والی قانون سازی کے طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے، عملی نفاذ کے مکمل نتیجے کے طور پر نہیں۔ گورنر کی منظوری، سرکاری گزٹ میں اشاعت اور متعلقہ قواعد جیسے اگلے قانونی و انتظامی مراحل ان کے باضابطہ نفاذ کی مزید وضاحت کریں گے۔

ایوان نے نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عمل درآمد کے لیے بھی قرارداد منظور کی۔ رپورٹ کے مطابق اس قرارداد کا مقصد امن و امان مضبوط کرنا اور دہشت گردی، انتہا پسندی اور بدامنی کے خلاف اقدامات کو مؤثر بنانا ہے۔ صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں مجموعی امن و امان پر بحث ہوئی اور حکومت و حزبِ اختلاف کے ارکان نے مشترکہ حکمتِ عملی اور اِن کیمرا اجلاس کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ مطالبات پارلیمانی بحث اور قرارداد کا حصہ ہیں؛ رپورٹ میں کسی نئی آپریشنل سیکیورٹی پالیسی یا خفیہ اجلاس کے انعقاد کی تاریخ نہیں دی گئی۔

بلوچستان واٹر ریسورسز مینجمنٹ بل 2026 اور ضابطۂ فوجداری بلوچستان ترمیمی بل 2026 کو مزید غور کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیا گیا۔ یہ دونوں بل منظور نہیں ہوئے بلکہ کمیٹی کے مرحلے میں گئے ہیں۔ اسمبلی کارروائی کی درست تصویر کے لیے منظور شدہ بل، منظور شدہ قرارداد اور کمیٹی کو بھیجے گئے مسودے الگ الگ قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔

اجلاس میں تیزاب حملوں کی روک تھام اور متاثرین کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی کا مطالبہ کرنے والی مشترکہ قرارداد بھی منظور ہوئی۔ رکنِ اسمبلی شاہدہ رؤف نے خواتین پارلیمانی کاکس کی طرف سے قرارداد پیش کی۔ قرارداد میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر سے متعلق حملے کی مذمت کی گئی اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر قانونی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ ایک منظور شدہ قرارداد اور قانون سازی کی ہدایت ہے، نیا جامع قانون منظور ہونے کے برابر نہیں۔

وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اجلاس میں شراب کی دکانوں سے متعلق بحث پر کہا کہ صوبے میں ایسی دکانیں غیر مسلم شہریوں کے لیے ہیں اور پاکستان بننے سے پہلے سے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی دکان کا نام کسی مخصوص علاقے سے منسوب ہو تو حکومت اسے تبدیل یا دکان بند کرے گی۔ یہ وزیراعلیٰ کا اسمبلی میں بیان ہے؛ رپورٹ میں کسی مخصوص لائسنس کی منسوخی یا دکان بند کیے جانے کا حکم درج نہیں۔

پنجگور میں وفات پانے والے ملازمین کے خاندانوں کے روزگار کوٹے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس صوبائی وزیرِ صحت کی یقین دہانی کے بعد نمٹا دیا گیا۔ ڈیموں اور نہروں سے متعلق ایک دوسرے نوٹس پر صوبائی وزیرِ آبپاشی نے ایوان کو بتایا کہ بلوچستان میں 886 ڈیم مکمل ہوچکے ہیں اور 223 زیرِ تعمیر ہیں۔ یہ اعداد اسمبلی میں وزیر کے بیان سے منسوب ہیں۔ آئندہ اہم مراحل منظور شدہ بلوں کی توثیق و گزٹ اشاعت، کمیٹیوں کی رپورٹس اور تیزاب حملوں سے متعلق مجوزہ قانون کا متن ہوں گے۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک