راولپنڈی: وزیراعلیٰ پنجاب کے گرین الیکٹرک بس منصوبے کے تحت مری بھیجی گئی 11 بسوں میں سے چھ میں فنی خرابیاں سامنے آئی ہیں۔ ڈان کے مطابق مری کے ڈپٹی کمشنر آغا ظہیر عباس شیرازی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے فنی ٹیم کے ساتھ بسوں کا معائنہ کیا اور سیکریٹری ٹرانسپورٹ کو فوری مرمت اور مکمل فٹنس یقینی بنانے کے لیے خط بھیج دیا۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ فنی کلیئرنس ملنے تک کسی بس کو سڑک پر چلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
حکام کے مطابق چینی انجینئر مری کا دورہ کریں گے، فنی نقائص دور کریں گے اور تمام بسوں کا مکمل معائنہ و مرمت کریں گے۔ دستیاب رپورٹ میں خرابیوں کی مخصوص نوعیت، پرزوں کی تفصیل، مرمت کی لاگت یا کلیئرنس کی حتمی تاریخ نہیں دی گئی۔ اس لیے چھ بسوں میں نقص کی تصدیق انتظامی بیان تک محدود ہے؛ یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ تمام بسیں ایک ہی خرابی کا شکار ہیں یا مستقل طور پر ناقابل استعمال ہو گئی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر نے ہدایت دی کہ مکمل طور پر فٹ قرار دیے جانے اور تکنیکی منظوری کے بعد ہی بسیں روٹ پر اتاری جائیں۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ احتیاطی اقدام شہریوں اور سیاحوں کو غیر معیاری سروس یا ممکنہ دشواری سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔ فی الحال رپورٹ میں کسی حادثے، مسافر کے زخمی ہونے یا بس کو نقصان پہنچنے کا ذکر نہیں؛ اقدام پیشگی حفاظتی جانچ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
یہ 11 الیکٹرک بسیں جون میں وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایات پر مری ضلعی انتظامیہ کے حوالے کی گئی تھیں۔ منصوبے کا اعلان ماحولیاتی آلودگی کم کرنے اور شہریوں و سیاحوں کو جدید، محفوظ اور آرام دہ سفری سہولت دینے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔ چھ گاڑیوں میں نقائص ملنے کے بعد منصوبے کی فوری ترجیح اب مرمت، دوبارہ معائنہ اور فنی کلیئرنس ہے۔
اس پیش رفت سے بس منصوبہ ختم ہونے یا تمام روٹس مستقل بند ہونے کی تصدیق نہیں ہوتی۔ رپورٹ کے مطابق چینی انجینئروں کی جانچ کے بعد جو بسیں مکمل فٹ قرار پائیں گی انہیں چلانے کی اجازت دی جا سکے گی۔ اگلی قابل تصدیق معلومات معائنے کے نتائج، خرابیوں کی درست نوعیت، مرمت مکمل ہونے اور ٹرانسپورٹ حکام کی تحریری کلیئرنس سے متعلق ہوگی۔ جب تک یہ مراحل مکمل نہیں ہوتے، عوامی سروس روکنے کا فیصلہ برقرار رہے گا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




