اسلام آباد: قومی کمیشن برائے وقار نسواں نے خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد، زیادتی، قتل اور ہراسانی کے واقعات پر فوری اور مؤثر پولیس کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈان کے مطابق کمیشن نے ملک بھر کے سینئر پولیس حکام کے ساتھ اجلاس میں رپورٹ ہونے والے متعدد مقدمات اور صنفی بنیاد پر تشدد کے بڑھتے خدشات کا جائزہ لیا۔ کمیشن کی چیئرپرسن نورین بانو لہڑی نے پولیس کو ہدایت کی کہ ہر مقدمے میں تیز، شفاف اور میرٹ پر تحقیقات، مؤثر استغاثہ اور بروقت انصاف یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں مختلف صوبوں سے رپورٹ ہونے والے واقعات پر تشویش ظاہر کی گئی۔ کسی بھی زیر تفتیش مقدمے میں الزام، تفتیش، چارج، عدالتی سماعت اور ثابت شدہ نتیجہ الگ قانونی مراحل ہیں؛ کمیشن کی تشویش یا فوری کارروائی کی ہدایت خود کسی ملزم کے جرم کا حتمی عدالتی تعین نہیں۔ کمیشن نے زور دیا کہ تحقیقات میں غفلت، غیر ضروری تاخیر یا مقدمہ منطقی انجام تک نہ پہنچانے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
کمیشن نے صنفی تشدد کے مقدمات جلد نمٹانے کے لیے خصوصی عدالتوں یا مخصوص عدالتی طریقہ کار کی ضرورت بھی بیان کی۔ یہ ایک پالیسی مطالبہ اور ادارہ جاتی سفارش ہے؛ ڈان کی رپورٹ میں کسی نئی خصوصی عدالت کے قیام کا سرکاری نوٹیفکیشن شامل نہیں۔ پولیس سے کہا گیا کہ ایسے علاقوں میں گشت، نگرانی اور پیشگی حفاظتی اقدامات بڑھائے جائیں جہاں خواتین اور بچیوں کو گھروں کے اندر یا باہر خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
اجلاس میں پولیس کی دستیاب خدمات، شکایتی نظام اور ہنگامی تحفظ کے طریقوں کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔ مدارس، اسکولوں، کالجوں، جامعات اور دیگر تعلیمی اداروں میں ہراسانی اور تشدد کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی، اور لڑکوں و نوجوان مردوں کی ذمہ دارانہ شہری تربیت کو ضروری قرار دیا گیا۔ پولیس افسران، تفتیشی اہلکاروں، ڈاکٹروں، پراسیکیوٹرز، عدالتی اہلکاروں اور جیل عملے کے لیے صنفی حساسیت پر خصوصی تربیت اور استعداد کار بڑھانے کی ہدایت بھی دی گئی۔
قومی کمیشن نے غیر قانونی جرگوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ متوازی اور غیر قانونی فیصلے خواتین کے حقوق، قانونی تقاضوں اور انصاف تک رسائی کو متاثر نہ کریں۔ تمام انسپکٹرز جنرل پولیس سے کہا گیا کہ مقدمہ وار ڈیٹا ہر ماہ فراہم کریں، جس میں تحقیقات، استغاثہ، زیر التوا مقدمات، رکاوٹیں، تربیتی اقدامات اور تشدد کی روک تھام کے لیے عملی پیش رفت شامل ہو۔
کمیشن کے شکایات مینجمنٹ سسٹم کو پولیس قیادت سے مؤثر طور پر منسلک کرنے کی ہدایت بھی دی گئی تاکہ شکایات کی بروقت حوالگی، جواب اور فالو اپ ممکن ہو۔ آئی جیز کو خواتین کی ترقی کے صوبائی محکموں اور صوبائی کمیشنوں سے براہ راست رابطہ رکھنے اور جیلوں میں خواتین کی فلاح، تحفظ اور بحالی کی خصوصی نگرانی کا کہا گیا۔ اگلا قابل تصدیق مرحلہ پولیس اداروں کی ماہانہ رپورٹنگ اور ان ہدایات پر عملی پیش رفت ہوگا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




