باجوڑ: ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال خار کے ڈاکٹروں اور صحت کارکنوں نے ایک ڈاکٹر کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور تشدد کے خلاف ہڑتال کی، جس کے دوران متعدد معمول کی طبی خدمات متاثر ہوئیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق او پی ڈیز، لیبارٹری اور الٹراساؤنڈ سمیت بیشتر شعبے بند رہے، تاہم ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ آنے والے مریضوں کو خدمات فراہم کرتا رہا۔ ہڑتال کئی گھنٹے جاری رہنے کے بعد ضلعی انتظامیہ اور پولیس سے مذاکرات کے نتیجے میں تین روز کے لیے مؤخر کردی گئی۔

ہڑتال کی اپیل باجوڑ ڈاکٹرز فورم اور باجوڑ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے کی تھی۔ دونوں تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ہفتے کی رات ایمرجنسی وارڈ میں ایک مریض کی موت کے بعد اس کے تیمارداروں نے ڈاکٹر کے ساتھ مبینہ طور پر تشدد کیا۔ رپورٹ کے مطابق مریض دیوار گرنے کے واقعے میں شدید زخمی ہوا تھا اور طبی عملے کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی ٹیم نے اس کی جان بچانے کی پوری کوشش کی۔ مبینہ تشدد کی ذمہ داری ابھی کسی عدالتی فیصلے یا مکمل پولیس تفتیش سے طے نہیں ہوئی، اس لیے اسے طبی تنظیموں کا الزام قرار دیا جا رہا ہے۔

ہڑتال صبح شروع ہوئی اور اس دوران کئی ڈاکٹروں کے نجی کلینک بھی بند رہے۔ معمول کی خدمات رکنے سے علاج کے لیے آنے والے افراد کو مشکلات پیش آئیں۔ بعد میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی ایک ٹیم نے احتجاجی رہنماؤں سے ملاقات کی اور یقین دہانی کرائی کہ ان کے مطالبات پر 48 گھنٹوں کے اندر عمل کیا جائے گا۔ تنظیموں نے مذاکرات کے بعد کہا کہ ہڑتال تین دن کے لیے مؤخر کی جا رہی ہے، لیکن ڈاکٹر پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کی جلد گرفتاری سمیت مطالبات پورے نہ ہوئے تو احتجاج دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے۔ یہ آئندہ اقدام کی مشروط تنبیہ ہے، ہڑتال دوبارہ شروع ہونے کی تصدیق نہیں۔

دوسری جانب مختلف علاقوں سے مریض لانے والے افراد نے علاج نہ ملنے پر ہسپتال کے باہر احتجاج کیا اور تقریباً ایک گھنٹے تک سڑک بند رکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ سنگین مریضوں کو فوری علاج درکار ہوتا ہے اور طبی عملے کی پیشہ ورانہ ذمہ داری خدمات کی فراہمی ہے۔ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور سماجی و سیاسی کارکنوں نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین سے بات کی، جس کے بعد سڑک دوبارہ کھول دی گئی۔

اس معاملے میں دو الگ مسائل سامنے آئے ہیں: طبی عملے کے تحفظ اور مبینہ تشدد پر قانونی کارروائی کا مطالبہ، اور مریضوں کی بلا تعطل علاج تک رسائی۔ اگلا قابل تصدیق مرحلہ پولیس کی کارروائی، انتظامیہ کی یقین دہانی پر عمل اور تین روزہ مدت کے بعد طبی تنظیموں کا فیصلہ ہوگا۔ فی الحال تصدیق شدہ صورتحال یہی ہے کہ ایمرجنسی کھلی رہی، معمول کے کئی شعبے متاثر ہوئے اور مذاکرات کے بعد ہڑتال عارضی طور پر مؤخر کردی گئی۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک