چترال: جامعہ چترال کے مستقل کیمپس کے کثیر مالیتی تعمیراتی منصوبے سے متعلق سابق ڈائریکٹر فنانس کے استعفے نے مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کے الزامات کو باضابطہ بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ ڈان کے مطابق ڈاکٹر سید فہد جان نے استعفیٰ دیتے ہوئے وائس چانسلر کو خط لکھا، جس میں مالی اخراج، ٹھیکیداروں کو مبینہ زائد ادائیگیوں اور تعمیراتی اخراجات کی نگرانی کمزور ہونے کے الزامات عائد کیے گئے۔ یہ الزامات ہیں؛ کسی آزاد سرکاری انکوائری نے ابھی انہیں حتمی طور پر ثابت نہیں کیا۔
سابق افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ زیر تعمیر مستقل کیمپس کے لیے رقوم جاری کرتے وقت قواعد اور معمول کی آڈٹ جانچ کو نظر انداز کیا گیا اور غیر تصدیق شدہ ادائیگیوں کی رفتار بڑھائی گئی۔ ڈان کا کہنا ہے کہ خط کی نقل اس کے پاس موجود ہے۔ تاہم خبر میں مکمل مالی ریکارڈ، ٹھیکوں کی تفصیل یا آڈٹ رپورٹ شائع نہیں کی گئی، اس لیے رقم یا ممکنہ نقصان کا کوئی حتمی تخمینہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
جامعہ چترال فیکلٹی ایسوسی ایشن کے صدر ظہور الحق دانش نے کہا کہ ادارے کے اعلیٰ مالی عہدیدار کی نشاندہی سنجیدہ تحقیقات کا تقاضا کرتی ہے۔ انہوں نے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سے مداخلت اور غیر جانب دارانہ انکوائری کا مطالبہ کیا۔ ایسوسی ایشن چاہتی ہے کہ رجسٹرار، ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن سمیت اضافی انتظامی عہدے رکھنے والے حکام کو تحقیقات مکمل ہونے تک ان ذمہ داریوں سے الگ کیا جائے۔ فیکلٹی نے علامتی احتجاج کیا لیکن طلبہ کے تعلیمی شیڈول کے تحفظ کے لیے کلاسوں کے بائیکاٹ سے گریز کیا۔
وائس چانسلر پروفیسر حاضر اللہ نے الزامات مسترد کیے، البتہ منصوبے کے ٹھیکیدار کو زائد ادائیگی ہونے کی تصدیق کی۔ ان کے مطابق یہ رقم مارچ 2026 میں، جب ڈاکٹر فہد جان دفتر میں موجود تھے، ٹھیکیدار سے واپس لے لی گئی تھی۔ وائس چانسلر نے کہا کہ صوبائی سطح کے سینئر ماہرین پر مشتمل کمیٹی الزامات کی تحقیقات کے لیے قائم کی جا چکی ہے، مگر سابق افسر ایک خط اور تین یاد دہانیوں کے باوجود ثبوت کے ساتھ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ یہ جامعہ انتظامیہ کا مؤقف ہے اور کمیٹی کی حتمی رپورٹ ابھی سامنے نہیں آئی۔
ڈاکٹر فہد جان نے جواب میں کہا کہ وہ ایسی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی چاہتے ہیں جو ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ یا ہائر ایجوکیشن کمیشن تشکیل دے، کیونکہ موجودہ کمیٹی وائس چانسلر نے بنائی ہے۔ انہوں نے اس کمیٹی کی غیر جانب داری پر سوال اٹھایا۔ یوں اختلاف صرف مالی الزامات تک محدود نہیں بلکہ تحقیقات کے فورم اور اس کی آزادی پر بھی ہے۔
فی الحال تصدیق شدہ نکات یہ ہیں کہ استعفے کا خط موجود ہے، فیکلٹی نے علامتی احتجاج کیا، وائس چانسلر نے ایک زائد ادائیگی اور اس کی واپسی تسلیم کی، اور ایک صوبائی سطح کی کمیٹی قائم ہے۔ الزامات کی صحت، قواعد کی ممکنہ خلاف ورزی اور کسی فرد کی ذمہ داری کا فیصلہ دستاویزی آڈٹ، غیر جانب دار تحقیقات اور حتمی رپورٹ کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




