سندھ پولیس نے کانسٹیبل اور دوسرے جونیئر رینک کے اہلکاروں کو تھانوں میں اسٹیشن ہاؤس افسر، یعنی ایس ایچ او، مقرر کرنے پر دوبارہ سخت پابندی عائد کردی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق انسپکٹر جنرل سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو کی ہدایت پر دوسرا سرکلر جاری کیا گیا، جس پر ایڈیشنل آئی جی آپریشنز سندھ بشیر احمد بروہی کے دستخط ہیں۔

سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ آئندہ کسی کانسٹیبل کو کسی پولیس اسٹیشن کا ایس ایچ او مقرر یا تعینات نہ کیا جائے۔ رپورٹ کے مطابق اس موضوع پر پہلے بھی 7 مئی 2026 کو واضح ہدایات جاری کی گئی تھیں، لیکن ان احکامات کے باوجود مختلف تھانوں میں ایسے افسران کو ایس ایچ او لگانے کا سلسلہ جاری رہا جو اس عہدے کے مجاز نہیں تھے۔ دوسرا سرکلر پہلے حکم پر عمل درآمد کی کمی کے بعد جاری کیا گیا انتظامی اقدام ہے۔

تازہ ہدایت میں کانسٹیبل کے ساتھ ہیڈ کانسٹیبل، اسسٹنٹ سب انسپکٹر، یعنی اے ایس آئی، اور ٹریفک کانسٹیبل کی بطور ایس ایچ او تعیناتی پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ سرکلر کے مطابق ایسی تقرریاں پولیس کے متعلقہ قوانین، قواعد، ضابطوں اور محکمانہ طریقۂ کار کی خلاف ورزی ہیں۔ حکم میں ان تعیناتیوں کو کمان کے ڈھانچے، محکمانہ نظم و ضبط، جواب دہی اور مؤثر انتظامی کنٹرول کے لیے بھی نقصان دہ قرار دیا گیا۔

رپورٹ میں ان تھانوں کی تعداد یا نام نہیں دیے گئے جہاں 7 مئی کی ہدایت کے بعد بھی جونیئر اہلکار ایس ایچ او تعینات رہے۔ اس میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ پہلے حکم کی خلاف ورزی کرنے والے کسی افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع ہوئی یا نہیں۔ اس لیے دوسرے سرکلر کو صوبہ بھر کے لیے واضح پابندی اور عمل درآمد کی تجدید سمجھا جا سکتا ہے، لیکن سابقہ تمام تقرریوں کے ختم ہو جانے یا ذمہ داروں کے خلاف کارروائی مکمل ہونے کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

ایس ایچ او پولیس اسٹیشن کے انتظام، مقدمات کے اندراج و تفتیشی نگرانی، امن و امان کے مقامی ردعمل اور ماتحت عملے کی کمان میں مرکزی ذمہ داری رکھتا ہے۔ تاہم ایکسپریس ٹریبیون کی دستیاب خبر میں اس منصب کے لیے مجاز کم از کم رینک، نئی تعیناتیوں کی آخری تاریخ یا اضلاع کو بھیجی گئی الگ تعمیلی رپورٹ کی تفصیل شامل نہیں۔ اردو ہیڈ لائنز نے صرف سرکلر میں واضح طور پر نامزد غیر مجاز رینک اور بیان کردہ انتظامی وجوہات تک خبر محدود رکھی ہے۔

اگلا قابلِ تصدیق مرحلہ ضلعی پولیس سربراہوں کی جانب سے موجودہ ایس ایچ او تعیناتیوں کا جائزہ، غیر مجاز تقرریوں کی تبدیلی اور دوسرے سرکلر کی تعمیل سے متعلق محکمانہ رپورٹ ہوگا۔ جب تک ایسی تفصیل سامنے نہیں آتی، پابندی کو جاری شدہ حکم کے طور پر رپورٹ کیا جائے گا، صوبے کے ہر تھانے میں مکمل نفاذ کے ثابت شدہ نتیجے کے طور پر نہیں۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک