نارووال کے گاؤں سراج میں ایک صدی سے زیادہ قدیم ہندو مندر کے منہدم ہونے پر تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق پاکستان مسیحا ملت پارٹی، جو اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرتی ہے، نے الزام لگایا ہے کہ 21 اگست کو عمارت دانستہ طور پر گرائی گئی تاکہ ساتھ واقع مدرسے کی توسیع کی جا سکے۔ دوسری طرف متروکہ وقف املاک بورڈ نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرانی عمارت شدید بارش کے باعث گر گئی۔ دونوں مؤقف ایک دوسرے سے متصادم ہیں اور دستیاب رپورٹ میں کسی سرکاری تحقیق کا حتمی نتیجہ شامل نہیں۔
تنظیم کے چیئرمین اسلم پرویز سہوترا کے مطابق بعض افراد نے مندر کا ڈھانچہ گرایا اور اینٹیں، گنبد کی دھاتی اشیا اور دوسرا سامان موقع سے ہٹا لیا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی افراد کے ساتھ 28 اگست کو پنجاب کے ایڈیشنل ہوم سیکریٹری سے ملاقات کرکے تحریری درخواست دی گئی، جس میں عمارت گرانے کے ذمہ دار افراد اور مذہبی مقام کے تحفظ میں مبینہ ناکامی کے مرتکب حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ الزامات تنظیم سے منسوب ہیں؛ ڈان کی رپورٹ میں ان کے حق میں کسی پولیس رپورٹ، عدالتی فیصلے یا مکمل تفتیشی دستاویز کا ذکر نہیں۔
سہوترا نے دعویٰ کیا کہ مندر سے متصل زمین پہلے متروکہ وقف املاک بورڈ نے ایک مدرسے کو لیز پر دی تھی، لیکن کئی سال کرایہ ادا نہ ہونے اور مقررہ مقصد کے مطابق استعمال نہ ہونے پر لیز منسوخ کردی گئی۔ ان کے بقول بعد میں جائیداد کے بعض حصوں پر غیر قانونی قبضہ ہوا۔ انہوں نے محکمہ مال کی ایک رپورٹ اور 29 جنوری 2026 کے بورڈ کے نائب منتظم کے حکم کا حوالہ دیا، جس میں مبینہ طور پر لیز منسوخ کرکے قابضین کو نکالنے اور جگہ سیل کرنے کی ہدایت تھی۔ ان کا الزام ہے کہ اس حکم پر عمل نہیں ہوا۔ دستیاب خبر میں ان دستاویزات کا مکمل متن یا آزاد سرکاری تصدیق شامل نہیں، اس لیے یہ تفصیل انہی کے بیان کے طور پر رپورٹ کی جا رہی ہے۔
متروکہ وقف املاک بورڈ کے اہلکار افتخار رانا نے مندر کو دانستہ طور پر منہدم کرنے کا الزام رد کیا۔ ان کے مطابق عمارت تیز بارشوں کے بعد خود گری۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کے ریکارڈ میں اس مندر کا کوئی نام درج نہیں، تاہم یہ عمارت تقریباً 100 سے 125 سال پرانی تھی۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ مندر سے ملحقہ زمین مدرسے کو لیز پر دی گئی تھی، لیکن ان کے مطابق خود مندر کی زمین کسی کو لیز نہیں کی گئی۔
افتخار رانا نے کہا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ مندر کی بحالی کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔ رپورٹ میں بحالی کا منظور شدہ منصوبہ، لاگت، مدت یا تعمیر شروع کرنے کی تاریخ نہیں دی گئی۔ اقلیتی تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ مندر کو اصل حالت میں دوبارہ تعمیر کیا جائے اور پنجاب حکومت ہندو مندروں، سکھ گوردواروں، مسیحی گرجا گھروں اور ان کی املاک کا تحفظ مضبوط بنائے۔
اس معاملے میں اگلا قابلِ تصدیق مرحلہ درخواست پر انتظامی یا پولیس کارروائی، موقع کی فنی جانچ، ملکیتی و لیز ریکارڈ کا باضابطہ جائزہ اور بحالی سے متعلق بورڈ کا تحریری فیصلہ ہوگا۔ جب تک ایسی تحقیق سامنے نہیں آتی، عمارت گرنے کی وجہ کو کسی ایک فریق کے دعوے کی بنیاد پر قطعی نتیجہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اردو ہیڈ لائنز نے الزام، سرکاری تردید اور تسلیم شدہ حقائق کو الگ رکھا ہے۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




