لاہور: پاکستان تحریک انصاف نے 6 ستمبر کو دعویٰ کیا کہ پارٹی رہنما اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کو پنجاب میں گرفتار کر لیا گیا ہے، تاہم ملتان اور لاہور پولیس کے سینئر حکام نے اس دعوے کی فوری تصدیق نہیں کی۔ مختلف ذرائع میں گرفتاری کے مقام اور قانونی کارروائی سے متعلق متضاد اطلاعات سامنے آنے کے باعث معاملہ تاحال مکمل طور پر واضح نہیں۔

ڈان کے مطابق پی ٹی آئی نے ایک بیان میں حماد اظہر کی گرفتاری کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اگر ان کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ ہے تو انہیں فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے اور قانونی و بنیادی حقوق یقینی بنائے جائیں۔ پارٹی کے دیگر رہنماؤں، جن میں عمر ایوب بھی شامل ہیں، نے سوشل میڈیا پر گرفتاری کا دعویٰ دہرایا۔

دوسری جانب ملتان کے ریجنل پولیس آفیسر عثمان اکرم گوندل نے ڈان کو بتایا کہ انہیں حماد اظہر کی گرفتاری کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں۔ لاہور انویسٹی گیشن کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس محمد نوید نے بھی کہا کہ انہیں نہ گرفتاری کی تصدیق ہے اور نہ یہ معلوم ہے کہ حماد اظہر کو لاہور پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود بعض میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ انہیں ملتان سے 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق ایک مقدمے میں حراست میں لیا گیا۔

ایکسپریس ٹریبیون نے پولیس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے حماد اظہر کو بعض 9 مئی مقدمات میں اشتہاری قرار دیے جانے اور وارنٹ جاری ہونے کے بعد کارروائی کی گئی۔ تاہم چونکہ متعلقہ پولیس افسران کی براہ راست تصدیق دستیاب نہیں، اس اطلاع کو حتمی گرفتاری کے طور پر نہیں بلکہ زیرِ گردش دعوے اور رپورٹ شدہ پولیس ذرائع کے مؤقف کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔

حماد اظہر 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات کے بعد مختلف مقدمات میں مطلوب رہے ہیں اور ماضی میں انسداد دہشت گردی کے اداروں اور پولیس کی جانب سے ان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں بھی کی جا چکی ہیں۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ اس کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے، جبکہ حکومتی اور پولیس حکام کا کہنا رہا ہے کہ کارروائیاں درج مقدمات اور عدالتی احکامات کے مطابق ہوتی ہیں۔

اس وقت سب سے اہم غیر حل شدہ پہلو یہ ہے کہ حماد اظہر عملی طور پر کس ادارے کی تحویل میں ہیں، اگر وہ گرفتار ہوئے ہیں، اور انہیں کس مقدمے یا وارنٹ کے تحت حراست میں لیا گیا۔ کسی عدالت میں پیشی یا پولیس کی باضابطہ تحویل کی تصدیق سامنے آنے تک گرفتاری کی حیثیت متنازع رہے گی۔