گلگت: پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار اختر عباس نشاد نے گلگت بلتستان اسمبلی کے حلقہ GBA-09 سکردو-III کا ضمنی انتخاب 305 ووٹوں کی برتری سے جیت لیا۔ 6 ستمبر کو جاری کیے گئے سرکاری نتائج کے مطابق اختر عباس نشاد نے 8,399 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے اہم حریف آزاد امیدوار وزیر سلیم کو 8,094 ووٹ ملے۔

ڈان کے مطابق حلقے میں مجموعی ووٹر ٹرن آؤٹ 51.79 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ انتخاب ایک روز قبل منعقد ہوا تھا اور مقابلہ آخری مرحلے تک انتہائی قریب رہا۔ ابتدائی غیر سرکاری نتائج میں بھی دونوں امیدواروں کے درمیان کم فرق دکھائی دے رہا تھا، تاہم فارم 47 پر مرتب حتمی سرکاری نتیجے نے پیپلز پارٹی کے امیدوار کی 305 ووٹوں سے کامیابی کی تصدیق کی۔

یہ ضمنی انتخاب اس لیے منعقد ہوا کہ گلگت بلتستان سپریم اپیلیٹ کورٹ نے اختر عباس نشاد کے والد فدا محمد نشاد کو نااہل قرار دیا تھا۔ فدا محمد نشاد جون کے عام انتخابات میں اسی حلقے سے کامیاب قرار پائے تھے، لیکن عدالتی فیصلے کے بعد نشست خالی ہوگئی۔ ضمنی انتخاب میں ان کے بیٹے اختر عباس نشاد نے حصہ لیا اور وہی نشست دوبارہ پیپلز پارٹی کے حصے میں لے آئے۔

پولنگ کے لیے سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ 800 سے زائد پولیس اہلکاروں کے ساتھ گلگت بلتستان اسکاؤٹس بھی تعینات کیے گئے۔ ضلعی ریٹرننگ افسر کے مطابق حلقے میں 61 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے، جن میں 25 کو حساس ترین، 11 کو درمیانی حساس اور 25 کو معمول کے زمرے میں رکھا گیا تھا۔ مجموعی طور پر پولنگ کا عمل پرامن رہا اور ووٹروں کی سہولت کے لیے مقامی تعطیل بھی دی گئی تھی۔

اس کامیابی کے بعد 33 رکنی گلگت بلتستان اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی نشستوں کی تعداد 15 ہو جائے گی۔ دستیاب پارٹی پوزیشن کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے پاس 9، استحکام پاکستان پارٹی کے پاس 6، جبکہ مجلس وحدت المسلمین اور ایک پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد رکن کی ایک ایک نشست ہے۔ ضمنی انتخاب کے نتیجے سے ایوان میں پیپلز پارٹی کی عددی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی ہے۔