اسلام آباد: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں 3 سے 5 ستمبر 2026 کے دوران مختلف سکیورٹی کارروائیوں اور جھڑپوں میں مجموعی طور پر 21 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ فوجی ترجمان کے بیان کے مطابق ان کارروائیوں میں پاک افغان سرحد کے قریب دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانا بھی شامل تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب شروع ہونے والی کارروائی کے بعد علاقے میں موجود مزید 10 مسلح افراد کو ہلاک کیا گیا، جس کے بعد اس مخصوص سرحدی دراندازی کی کوشش میں مارے جانے والے افراد کی تعداد 25 ہوگئی۔ بیان میں کہا گیا کہ 3 سے 5 ستمبر کے دوران ہونے والی تازہ جھڑپوں میں مجموعی طور پر 21 دہشت گرد مختلف مقامات پر مارے گئے۔

فوجی بیان کے مطابق کوہاٹ اور ڈیرا اسماعیل خان کے علاقوں میں بھی الگ الگ انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں کی گئیں، جہاں سکیورٹی فورسز نے مشتبہ جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ آئی ایس پی آر نے ہلاک ہونے والوں کو ’خوارج‘ قرار دیتے ہوئے ان پر بھارت کی پشت پناہی کا الزام عائد کیا۔ ان الزامات کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی، اس لیے انہیں فوجی ترجمان کے مؤقف کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ سکیورٹی فورسز سرحدی علاقوں میں نگرانی اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھیں گی اور ملک کی خودمختاری اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے کارروائی کی صلاحیت برقرار رکھتی ہیں۔ بیان میں افغان عبوری حکومت سے بھی مؤثر سرحدی انتظام اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی توقع دہرائی گئی۔ کابل کی جانب سے اس مخصوص بیان پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

حالیہ کارروائیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسند گروہوں کے درمیان جھڑپیں وقفے وقفے سے جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا مقصد مسلح نیٹ ورکس، سرحد پار نقل و حرکت اور مقامی سہولت کاری کو محدود کرنا ہے۔