لاہور: انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کو نو مئی 2023 کے واقعات سے متعلق مقدمے میں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ حماد اظہر کو پولیس کی تازہ جسمانی تحویل مکمل ہونے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا، جس کے بعد عدالت نے انہیں مزید جسمانی ریمانڈ دینے کے بجائے عدالتی تحویل میں بھیجنے کا حکم دیا۔
جیو نیوز کے مطابق حماد اظہر کی مختلف مراحل میں جسمانی تحویل کی مجموعی مدت 50 روز تک پہنچ چکی تھی۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے 15 اکتوبر کو ان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 12 روز کی توسیع کی تھی۔ دوسری رپورٹ کے مطابق زیر سماعت معاملہ جناح ہاؤس حملہ کیس سے متعلق ہے اور عدالت نے پولیس کی مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست منظور نہیں کی۔
حماد اظہر کو ستمبر میں ملتان سے حراست میں لیے جانے کے بعد لاہور پولیس کے حوالے کیا گیا تھا۔ پولیس کا مؤقف رہا ہے کہ وہ نو مئی کے واقعات سے متعلق متعدد مقدمات میں مطلوب تھے اور انہیں اشتہاری قرار دیا جا چکا تھا۔ یہ پولیس اور استغاثہ کا مؤقف ہے؛ زیر سماعت مقدمات میں الزامات کا حتمی تعین عدالت نے کرنا ہے اور جوڈیشل ریمانڈ کسی ملزم کے جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوتا۔
نو مئی 2023 کو سابق وزیر اعظم عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج اور پرتشدد واقعات ہوئے تھے۔ لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس سمیت سرکاری اور فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کے واقعات کے بعد متعدد مقدمات درج کیے گئے اور بڑی تعداد میں سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائیاں شروع ہوئیں۔
حماد اظہر ماضی میں وفاقی وزیر رہ چکے ہیں اور تحریک انصاف پنجاب کی صدارت بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے اگست 2024 میں پارٹی کے صوبائی عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔ ان کے خلاف موجود مقدمات مختلف مراحل میں ہیں، اس لیے ہر کیس کی قانونی حیثیت، شواہد اور عدالتی فیصلے الگ طور پر دیکھے جائیں گے۔ تازہ حکم صرف متعلقہ مقدمے میں ان کی تحویل کی نوعیت کو جسمانی ریمانڈ سے عدالتی ریمانڈ میں تبدیل کرتا ہے۔

