خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سابق پی ٹی آئی حکومت کے دور میں صوبائی اسمبلی سے منظور ہونے والے 74 قوانین کا جائزہ شروع کردیا گیا ہے۔ ڈان نے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صوبائی محکمہ قانون نے اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جسے سات روز کے اندر اپنی سفارشات مجاز اتھارٹی کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق زیر جائزہ قانون سازی کا تعلق 20 سرکاری محکموں اور شعبوں سے ہے۔ ان میں پراسیکیوشن، جامعات، میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز اور صوبائی اسمبلی کے اختیارات و مراعات سے متعلق قوانین بھی شامل ہیں۔ یہ عمل محض فہرست سازی تک محدود نہیں بلکہ بعض قوانین میں ممکنہ ترامیم یا انہیں واپس لینے کے امکانات بھی زیر غور آسکتے ہیں، تاہم حتمی فیصلے کمیٹی کی سفارشات اور مجاز حکام کی منظوری کے بعد ہی واضح ہوں گے۔
خصوصی توجہ خیبر پختونخوا پراسیکیوشن سروس ترمیمی ایکٹ 2025 پر بھی دی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکام اس قانون میں ترمیم یا اسے واپس لینے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس قانون کی اہمیت اس لیے بھی بڑھی ہے کہ نو مئی 2023 سے متعلق مقدمات کی پیروی اور پراسیکیوشن پر کسی ممکنہ قانونی تبدیلی کے اثرات کا سوال اٹھایا جا رہا ہے۔ فی الحال یہ جائزہ ایک انتظامی اور قانونی عمل ہے؛ کسی قانون کی منسوخی یا تبدیلی کو اس مرحلے پر طے شدہ فیصلہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
قانون سازی کے وسیع جائزے کا آغاز صوبے میں غیر معمولی سیاسی و انتظامی حالات کے پس منظر میں ہوا ہے۔ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبائی حکومتی ڈھانچے اور سابق دور کے بعض انتظامی و قانونی فیصلوں پر نئی جانچ پڑتال شروع ہوئی ہے۔ چونکہ زیر غور قوانین مختلف محکموں اور اداروں کے اختیارات، انتظام اور قواعد سے متعلق ہیں، اس لیے کمیٹی کی سفارشات کے اثرات متعدد شعبوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
دستیاب رپورٹ میں کسی مخصوص قانون کو حتمی طور پر ختم کرنے، معطل کرنے یا تبدیل کرنے کا نوٹیفکیشن سامنے نہیں آیا۔ اس لیے خبر کا بنیادی اور تصدیق شدہ نکتہ یہی ہے کہ 74 قوانین کو باضابطہ جائزے کے دائرے میں لایا گیا ہے اور کمیٹی کو سات روز میں سفارشات پیش کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔
