اسلام آباد میں قومی اسمبلی نے 27 اکتوبر کو کشمیر بلیک ڈے کے موقع پر متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام مسئلہ جموں و کشمیر کے منصفانہ، پرامن اور دیرپا حل سے وابستہ ہے۔ سرکاری ریڈیو پاکستان کے مطابق قرارداد وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام اور پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رانا محمد قاسم نون نے مشترکہ طور پر پیش کی۔

قرارداد میں پاکستان کے اس دیرینہ سرکاری مؤقف کا اعادہ کیا گیا کہ تنازع کا حتمی حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی آزادانہ طور پر ظاہر کی گئی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ ایوان نے کشمیری عوام کے لیے پاکستان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔

قومی اسمبلی نے بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے پاکستانی مؤقف پر تشویش ظاہر کی اور عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ، سے متعلقہ ذمہ داریاں پوری کرنے اور تنازع کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ قرارداد میں 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے خطے کی متنازع حیثیت اور آبادیاتی ساخت میں تبدیلی سے متعلق پاکستانی اعتراضات بھی دہرائے گئے۔

ایوان نے بھارت سے کشمیری سیاسی قیادت کی حراست ختم کرنے، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزاد مبصرین کو رسائی دینے اور ایسے اقدامات روکنے کا مطالبہ کیا جنہیں پاکستان آبادیاتی تبدیلی سے جوڑتا ہے۔ یہ نکات پاکستان کی پارلیمانی قرارداد میں درج سیاسی مؤقف اور مطالبات ہیں؛ بھارت مسئلہ کشمیر کی حیثیت اور 2019 کے اقدامات کے بارے میں مختلف مؤقف رکھتا ہے۔

قرارداد نے وفاقی حکومت سے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر سفارتی کوششیں جاری رکھنے کو کہا۔ 27 اکتوبر پاکستان میں ہر سال کشمیر بلیک ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے، جس کا تعلق 1947 میں بھارتی فوج کے سری نگر پہنچنے کے واقعے سے جوڑا جاتا ہے۔ قومی اسمبلی کے ساتھ گلگت بلتستان اسمبلی میں بھی یکجہتی سے متعلق قرارداد منظور ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔