بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں کوئلے کی ایک کان میں گیس دھماکے کے بعد پھنس جانے والے پانچ کان کنوں کو زندہ نکال لیا گیا ہے۔ پاکستان آرمی کی جانب سے کیے گئے امدادی آپریشن کے دوران کان کے اندر رسائی حاصل کرکے محصور مزدوروں کو باہر منتقل کیا گیا، جبکہ واقعے میں چار کان کن جان سے گئے اور پانچ دیگر زخمی ہوئے۔
دھماکے کے بعد زیرِ زمین کام کرنے والے مزدوروں سے رابطہ منقطع ہونے اور کان کے اندر گیس موجود ہونے کے باعث امدادی کارروائی خطرناک تھی۔ دستیاب معلومات کے مطابق بروقت آپریشن کے نتیجے میں پانچ افراد کو زندہ بچایا گیا۔ زخمی کان کنوں کو مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔
ہرنائی کے مقامی باشندوں نے ریسکیو اہلکاروں اور پاکستان آرمی کے فوری ردعمل کو سراہا۔ کان کنی کے حادثات میں ابتدائی گھنٹے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ زیرِ زمین آکسیجن کی کمی، زہریلی گیس، ملبہ گرنے اور مزید دھماکوں کا خطرہ امدادی ٹیموں اور پھنسے ہوئے کارکنوں دونوں کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔ اسی لیے جائے حادثہ پر منظم رابطہ اور حفاظتی آلات کا استعمال بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
کوئلے کی کانوں میں میتھین اور دوسری گیسوں کا جمع ہونا ایک سنگین حفاظتی خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ مناسب ہوا کی آمدورفت، گیس کی مسلسل پیمائش، برقی آلات کی جانچ اور ہنگامی راستوں کی دستیابی ایسے واقعات کے امکانات کم کرسکتی ہے۔ مزدوروں کی باقاعدہ تربیت اور کان کے اندر کام شروع ہونے سے قبل حفاظتی جائزہ بھی حادثات سے بچاؤ کے لیے ضروری اقدامات میں شامل ہیں۔
واقعے میں جانی نقصان نے ایک مرتبہ پھر کان کنوں کے تحفظ، ریسکیو صلاحیت اور حادثات کی آزادانہ تحقیقات کی ضرورت کو نمایاں کیا ہے۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے دھماکے کی مکمل وجہ اور کان میں حفاظتی ضوابط کی صورتحال سے متعلق تفصیلی رپورٹ سامنے آنا باقی ہے۔ ایسی تحقیقات کا مقصد ذمہ داری کا تعین کرنے کے ساتھ مستقبل میں اسی نوعیت کے واقعات کی روک تھام ہونا چاہیے۔
متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی، طبی اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہوگی، جبکہ زخمیوں کے علاج اور بحالی کی نگرانی بھی اہم ہے۔ حادثے کے بعد کان کے حفاظتی ڈھانچے کا ازسرنو معائنہ اور علاقے کی دیگر کانوں میں گیس مانیٹرنگ کے انتظامات کی جانچ مزدوروں کی جانیں محفوظ بنانے کے لیے ضروری قدم ہوسکتا ہے۔




