کراچی: پاکستان کے مینوفیکچرنگ شعبے کی کاروباری سرگرمی اکتوبر میں سست ہوئی اور ایچ بی ایل پاکستان مینوفیکچرنگ پرچیزنگ منیجرز انڈیکس، پی ایم آئی، 50.8 ریکارڈ کیا گیا، جو چھ ماہ کی کم ترین سطح ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق ستمبر میں یہی انڈیکس 51.4 تھا۔ پی ایم آئی میں 50 سے اوپر کی سطح عمومی طور پر سرگرمی میں توسیع جبکہ 50 سے نیچے سکڑاؤ کی نشاندہی کرتی ہے، اس لیے اکتوبر کی ریڈنگ رفتار میں کمی کے باوجود مجموعی نمو برقرار رہنے کی علامت ہے۔

رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں پیداوار اور نئے آرڈرز میں اضافہ ہوا، لیکن دونوں کی رفتار گزشتہ مہینوں کے مقابلے میں محدود رہی۔ بیرون ملک سے نئے آرڈرز میں بھی بہتری دیکھی گئی، جس سے برآمدی طلب کی کچھ حمایت سامنے آئی۔ دوسری جانب خام مال اور دیگر پیداواری اخراجات میں اضافے نے کمپنیوں پر لاگت کا دباؤ برقرار رکھا، اگرچہ بعض کاروباری اداروں نے فروختی قیمتوں میں اضافہ کرکے اس اثر کو صارفین تک منتقل کرنے کی کوشش کی۔

مینوفیکچررز نے خریداری کی سرگرمی اور خام مال کے ذخائر میں تبدیلیاں بھی رپورٹ کیں۔ کاروباری سروے کے ایسے اشاریے سرکاری قومی کھاتوں کا متبادل نہیں ہوتے بلکہ کمپنیوں کے ماہانہ تجربات کی بنیاد پر معاشی رفتار کا نسبتاً فوری اندازہ فراہم کرتے ہیں۔ اس لیے 50.8 کی ریڈنگ کو پورے صنعتی شعبے کی حتمی شرح نمو نہیں سمجھا جا سکتا، البتہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ سروے میں شامل صنعتوں میں توسیع کی رفتار کمزور ہوئی ہے۔

رپورٹ میں روزگار، سپلائر ڈیلیوری اور کاروباری توقعات سے متعلق اشارے بھی شامل ہیں۔ کمپنیوں کی مستقبل کی پیداوار سے متعلق امیدیں موجود رہیں، تاہم لاگت، توانائی، مالی حالات اور ملکی و بیرونی طلب جیسے عوامل آئندہ مہینوں کی رفتار پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے صنعتی شعبے کے لیے برآمدی آرڈرز میں پائیدار اضافہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس سے زرمبادلہ آمدن، پیداواری استعمال اور سرمایہ کاری کے فیصلوں پر اثر پڑتا ہے۔

اکتوبر کا پی ایم آئی اس لحاظ سے متوازن تصویر پیش کرتا ہے کہ مینوفیکچرنگ سرگرمی سکڑاؤ میں نہیں گئی، لیکن نمو کی رفتار واضح طور پر نرم پڑی۔ آنے والے اعداد و شمار سے یہ معلوم ہوگا کہ آیا یہ سست روی عارضی تھی یا توانائی، ان پٹ لاگت، شرح سود اور طلب کی صورتحال صنعتی توسیع کو مزید محدود کرتی ہے۔