واشنگٹن: امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایران کے خلاف جنگ سے متعلق اپنی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کانگریس میں اپنے مواخذے کی کسی بھی کوشش کا مقابلہ کریں گے۔ ان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو نقصان اٹھانا پڑا اور جنگ کے سیاسی، مالی اور انسانی اثرات پر واشنگٹن میں بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔

ڈان کی رپورٹ، جس میں بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی معلومات شامل ہیں، کے مطابق ہیگستھ نے جنگ کو جرات مندانہ اور تاریخی اقدام قرار دیا۔ دوسری جانب ان کے ناقدین کانگریس کی نگرانی، جنگ کے فیصلوں، انتظامیہ کی حکمت عملی اور اس کے نتائج کے بارے میں مزید جواب دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مواخذے کی بات فی الحال ایک سیاسی اور پارلیمانی کوشش کے طور پر سامنے آئی ہے؛ رپورٹ میں ایسا کوئی حتمی نتیجہ بیان نہیں کیا گیا کہ وزیر دفاع کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہو یا مواخذے کا عمل مکمل ہو چکا ہو۔

وسط مدتی انتخابات کے بعد کانگریس میں طاقت کا توازن تبدیل ہونے سے ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کو زیادہ سخت پارلیمانی جانچ کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ایران جنگ پہلے ہی امریکی داخلی سیاست کا ایک اہم موضوع بن چکی ہے، جہاں حامی اسے قومی سلامتی کے تناظر میں ضروری اقدام قرار دیتے ہیں جبکہ مخالفین اس کے اخراجات، قانونی بنیاد اور طویل مدتی علاقائی اثرات پر سوال اٹھاتے ہیں۔

ہیگستھ کا مؤقف ہے کہ انتظامیہ نے امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے درست فیصلہ کیا۔ تاہم کانگریس میں کسی بھی مواخذے کی کارروائی کے لیے آئینی اور پارلیمانی مراحل درکار ہوں گے اور محض سیاسی مطالبہ یا اعلان عہدے سے برطرفی کے مترادف نہیں ہوتا۔ اس لیے موجودہ مرحلے پر معاملہ سیاسی کشمکش اور ممکنہ نگرانی کی کارروائی تک محدود ہے۔

ایران سے متعلق امریکی پالیسی کے اگلے مرحلے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے بھی اہم ہوں گے۔ انتخابات کے بعد انتظامیہ پر سفارتی راستے، مزید فوجی اقدامات اور جنگ کے داخلی سیاسی اثرات کے بارے میں واضح حکمت عملی پیش کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔