واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹیفن ملر کو وائٹ ہاؤس کا نیا چیف آف اسٹاف مقرر کر دیا ہے۔ وہ سوزی وائلز کی جگہ ذمہ داری سنبھالیں گے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بعد ٹرمپ انتظامیہ اپنی سیاسی حکمت عملی اور وائٹ ہاؤس کے اندرونی ڈھانچے کا جائزہ لے رہی ہے۔

اسٹیفن ملر طویل عرصے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی پالیسی مشیروں میں شامل ہیں اور خاص طور پر امیگریشن، سرحدی پالیسی اور داخلی سیاسی حکمت عملی پر نمایاں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ نئی ذمہ داری میں وہ وائٹ ہاؤس کے عملے، پالیسی ترجیحات اور صدر کے روزمرہ انتظامی ایجنڈے کو مربوط کرنے کے مرکزی منصب پر ہوں گے۔

سوزی وائلز نے ٹرمپ کی انتخابی مہم اور بعد میں وائٹ ہاؤس میں اہم انتظامی کردار ادا کیا تھا۔ ان کی جگہ ملر کی تقرری انتظامیہ کی اعلیٰ قیادت میں اہم تبدیلی ہے، تاہم اس تبدیلی کے بعد دیگر عہدوں یا پالیسی ٹیم میں ممکنہ ردوبدل کے بارے میں الگ سے باضابطہ اعلان ضروری ہوگا۔

وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو سیاسی دھچکا پہنچنے کے بعد وائٹ ہاؤس پر اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کا دباؤ بڑھا ہے۔ ملر کی ترقی کو اسی وسیع سیاسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، لیکن تقرری بذات خود کسی مخصوص نئی پالیسی کے نفاذ کا اعلان نہیں ہے۔

چیف آف اسٹاف امریکی صدارتی انتظامیہ میں انتہائی بااثر عہدہ سمجھا جاتا ہے۔ اس منصب پر موجود عہدیدار صدر تک رسائی، اعلیٰ سطح کے اجلاسوں، پالیسی عمل اور مختلف سرکاری شعبوں کے درمیان رابطہ کاری میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے ملر کی تقرری سے وائٹ ہاؤس کے فیصلہ سازی کے انداز اور پالیسی ترجیحات پر اثر پڑنے کی توقع کی جا سکتی ہے، اگرچہ عملی تبدیلیوں کا اندازہ آئندہ فیصلوں سے ہوگا۔

ٹرمپ اور ملر کا سیاسی تعلق پہلی ٹرمپ انتظامیہ سے بھی پہلے کا ہے اور ملر ان پالیسیوں کے اہم معماروں میں شمار ہوتے رہے ہیں جن کا تعلق امیگریشن اور سرحدی کنٹرول سے تھا۔ نئی تقرری کے بعد ان کا کردار مشاورتی دائرے سے بڑھ کر وائٹ ہاؤس کے مجموعی انتظامی نظم و نسق تک پھیل جائے گا۔