اقوام متحدہ: سلامتی کونسل نے پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے ایک صدارتی بیان کو منظور کر لیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مسلح تصادم شروع ہونے کے بعد بھی سفارت کاری ختم نہیں ہونی چاہیے بلکہ جنگ کے دوران رابطے، ثالثی اور سیاسی کوششوں کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ بیان کا عنوان فعال دشمنی کے دوران سفارت کاری کا کردار ہے اور اس میں تنازعات کے پرامن حل کے لیے اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کی توثیق کی گئی ہے۔
بیان میں رکن ممالک اور متحارب فریقوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ براہ راست یا بالواسطہ رابطے، ثالثی، اچھے دفاتر اور دیگر سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی کے امکانات پیدا کرنے اور دیرپا سیاسی حل کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کریں۔ سلامتی کونسل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سفارتی رابطے شہریوں کے تحفظ اور تنازع کے مزید پھیلاؤ کو روکنے میں عملی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
پاکستان کے مستقل مندوب سید حیدر شاہ نے منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ لڑائی شروع ہونے کے بعد سفارت کاری کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ پاکستان کے مطابق کھلے رابطے اور مذاکرات غلط اندازوں کے امکانات کم کرنے، انسانی امداد کی محفوظ رسائی میں مدد دینے اور فریقوں کو تصادم سے سیاسی عمل کی طرف لانے کے لیے ضروری ہیں۔
یہ اقدام سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 سے آگے بڑھتا ہے، جو 2025 میں پاکستان کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور ہوئی تھی اور بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت کی توثیق کرتی تھی۔ نئے صدارتی بیان میں خاص طور پر اس مرحلے پر توجہ دی گئی ہے جب مسلح کارروائیاں شروع ہو چکی ہوں اور فریقوں کے درمیان رابطے کم یا منقطع ہونے کا خطرہ ہو۔
سلامتی کونسل نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، ان کے نمائندوں، خصوصی ایلچیوں اور ثالثوں کے کردار کو بھی اہم قرار دیا۔ بیان میں علاقائی اور ذیلی علاقائی تنظیموں کی ثالثی صلاحیت بہتر بنانے اور اقوام متحدہ کے ساتھ ان کے تعاون کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ ساتھ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ کسی تنازع کے پرامن حل کی بنیادی ذمہ داری متعلقہ فریقوں ہی پر عائد ہوتی ہے۔
بیان میں جنگ بندی کو حتمی مقصد کے بجائے ایک اہم مرحلہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ لڑائی رکنے کے بعد بھی سیاسی اور سفارتی عمل جاری رہنا چاہیے تاکہ تنازع کی بنیادی وجوہات سے نمٹا جا سکے اور پائیدار سمجھوتا ممکن ہو۔ سلامتی کونسل نے تمام ایسی کوششوں کو اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور متعلقہ قراردادوں کے مطابق رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
