نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ کے امن مشنز کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے اسٹریٹجک اور مستقبل بین اصلاحات کی حمایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مالی دباؤ اور بجٹ میں کمی کے نام پر ان مشنز کی بنیادی عملی صلاحیت کو کمزور نہیں کیا جانا چاہیے۔ پاکستانی موقف کے مطابق کارکردگی اور اخراجات میں بہتری کا مقصد امن مشنز کو مضبوط کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ان وسائل کو ختم کرنا جن سے وہ اپنا مینڈیٹ پورا کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے نے امن مشنز سے متعلق بحث میں کہا کہ دنیا کے مختلف تنازعات میں امن دستے شہریوں کے تحفظ، جنگ بندی کی نگرانی، سیاسی عمل کی معاونت اور ریاستی اداروں کی بحالی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان ذمہ داریوں کے لیے مناسب افرادی قوت، سازوسامان، نقل و حرکت اور مالی وسائل ضروری ہیں۔
پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ اصلاحات زمینی حقائق اور ہر مشن کے مخصوص مینڈیٹ کو سامنے رکھ کر کی جائیں۔ یکساں انداز میں اخراجات کم کرنے سے ایسے علاقوں میں خطرات بڑھ سکتے ہیں جہاں امن دستوں کو پہلے ہی پیچیدہ سکیورٹی حالات، وسیع جغرافیائی حدود اور محدود بنیادی ڈھانچے کا سامنا ہے۔
پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنز میں طویل عرصے سے فوجی اور پولیس اہلکار فراہم کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اسی تجربے کی بنیاد پر پاکستانی وفد نے کہا کہ فوجی و پولیس دستے فراہم کرنے والے ممالک، سلامتی کونسل، سیکریٹریٹ اور میزبان ریاستوں کے درمیان مشاورت کو اصلاحاتی عمل کا مرکزی حصہ ہونا چاہیے۔
اسلام آباد نے امن مشنز کے لیے جدید ٹیکنالوجی، بہتر انٹیلی جنس معاونت، محفوظ نقل و حمل، طبی سہولتوں اور اہلکاروں کی تربیت کو بھی مؤثر کارکردگی کے لیے اہم قرار دیا۔ اس کے ساتھ احتساب اور واضح کارکردگی کے معیار کی حمایت کی گئی تاکہ دستیاب وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
پاکستانی موقف میں یہ فرق واضح رکھا گیا کہ اصلاحات اور مالی نظم و ضبط کی ضرورت اپنی جگہ موجود ہے، لیکن امن مشنز کی صلاحیت میں ایسی کمی جو شہریوں یا اہلکاروں کی سلامتی کو متاثر کرے قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ امن مشنز کو سیاسی حل کا متبادل سمجھنے کے بجائے پائیدار امن کے وسیع سفارتی عمل کا معاون ذریعہ بنائیں۔
