نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹیلوین کے واگنر ہاکی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ورلڈ کپ گروپ میچ میں پاکستان اور ویلز کا مقابلہ 3-3 سے برابر رہا۔ پاکستان نے ابتدا میں برتری حاصل کی، پھر ویلز نے دو گول کر کے میچ کا رخ بدلا، اور آخری کوارٹر میں دونوں ٹیموں نے تیز رفتار حملوں کے دوران مجموعی طور پر تین مزید گول کیے۔ ڈرا کے نتیجے میں پاکستان کو ٹورنامنٹ کا پہلا پوائنٹ ملا۔ ٹیم کو اس سے پہلے اپنے ابتدائی میچ میں انگلینڈ کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
پاکستان کی جانب سے عبد الرحمان نے تیسرے منٹ میں گول کر کے ٹیم کو فوری برتری دلا دی۔ پہلے کوارٹر کی یہ کامیابی دفاع پر دباؤ کم کر سکتی تھی، لیکن ویلز نے کھیل میں واپسی جاری رکھی۔ 25ویں منٹ میں گارتھ فرلانگ نے گول کر کے اسکور 1-1 کیا۔ تیسرے کوارٹر کے آغاز کے صرف 31 سیکنڈ بعد رائس بریڈشا نے ویلز کو 2-1 کی برتری دلا دی۔ اس مرحلے پر پاکستان کو گیند کے قبضے کے ساتھ آخری حصے میں زیادہ مؤثر فیصلہ سازی کی ضرورت تھی۔
چوتھے کوارٹر میں پاکستان نے بھرپور جواب دیا۔ 49ویں منٹ میں سفیان خان نے پنالٹی کارنر پر گول کر کے اسکور برابر کیا۔ صرف دو منٹ بعد حنان شاہد نے 51ویں منٹ میں فیلڈ گول کے ذریعے پاکستان کو 3-2 سے آگے کر دیا۔ یہ مختصر وقفے میں دو گول ٹیم کی جارحانہ واپسی اور دباؤ میں مواقع استعمال کرنے کی صلاحیت دکھاتے ہیں۔ تاہم برتری زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور فرلانگ نے 53ویں منٹ میں اپنا دوسرا گول کر کے ویلز کے لیے اسکور 3-3 کر دیا۔
آخری منٹوں میں دونوں ٹیموں نے فیصلہ کن گول کی کوشش کی، مگر دفاع اور گول کیپنگ نے مزید تبدیلی نہ ہونے دی۔ پاکستان کے لیے میچ کا مثبت پہلو خسارے کے بعد واپسی، پنالٹی کارنر سے گول اور مختلف کھلاڑیوں کی اسکورنگ رہی۔ دوسری طرف دو مرتبہ حاصل کی گئی برتری برقرار نہ رکھ پانا دفاعی ترتیب اور گول کے فوراً بعد کھیل کو قابو میں رکھنے کی ضرورت کی نشاندہی کرتا ہے۔ ٹورنامنٹ کے مختصر گروپ مرحلے میں گول کا فرق اور ہر پوائنٹ اہم ہو سکتا ہے۔
پاکستان کا اگلا مقابلہ بدھ کو بھارت سے طے ہے۔ اس میچ سے پہلے کوچنگ اسٹاف کو دفاعی رابطے، پنالٹی کارنر کی تبدیلی، گیند کھونے کے بعد فوری واپسی اور آخری کوارٹر میں نظم پر توجہ دینا ہو گی۔ ویلز کے خلاف ڈرا نے پاکستان کو پوائنٹس ٹیبل پر آغاز دیا ہے، مگر اگلے مرحلے کے امکانات کے لیے آئندہ میچوں میں نتیجہ اور گول فرق دونوں اہم رہیں گے۔ 3-3 کا مقابلہ اس بات کا ثبوت رہا کہ ٹیم حملے میں تیزی پیدا کر سکتی ہے؛ اب ضرورت یہ ہے کہ اس توانائی کو پورے میچ میں متوازن اور منظم کارکردگی میں بدلا جائے۔




