لاہور: ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ملک میں جیلوں کی شدید گنجائش سے زیادہ آبادی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوجداری نظامِ انصاف میں فوری اور بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈان کے مطابق ایچ آر سی پی کی پالیسی رپورٹ 'Beyond the Prison Wall: Reducing Overcrowding in Pakistan’s Prisons' میں کہا گیا ہے کہ پنجاب کی 45 جیلیں ستمبر 2026 میں اپنی مقررہ گنجائش کے 190.73 فیصد پر چل رہی تھیں۔

رپورٹ میں پنجاب کے تازہ جیل اعداد کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبے میں 39,204 قیدیوں کی مقررہ گنجائش کے مقابلے میں 74,773 افراد قید تھے۔ ان میں 54,932 زیرِ سماعت قیدی تھے، جو مجموعی قیدی آبادی کا تقریباً 74 فیصد بنتے ہیں۔ ایچ آر سی پی کے مطابق ستمبر 2025 میں زیرِ سماعت قیدیوں کی تعداد 51,428 اور کل قیدی 70,069 تھے، جبکہ اس وقت بھی گنجائش سے زیادہ آبادی 183.35 فیصد تھی۔

کمیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ مسئلہ صرف نئی جیلیں تعمیر کرنے سے حل نہیں ہوگا کیونکہ اس کے پیچھے ضمانت کے غیر مؤثر طریقہ کار، طویل مقدمات، سست تحقیقات اور پروبیشن و پیرول جیسے متبادل اقدامات کا محدود استعمال شامل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ طویل عرصے تک زیرِ سماعت حراست نہ صرف جیلوں پر دباؤ بڑھاتی ہے بلکہ صحت، صفائی، ذہنی صحت، تشدد کے خطرات اور بحالی کے مواقع پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

ایچ آر سی پی نے ضمانت کے نظام کو آئینی آزادی اور بے گناہی کے مفروضے کے اصولوں کے مطابق دوبارہ دیکھنے کی سفارش کی۔ کمیشن کے مطابق مسلسل حراست کی ضرورت ثابت کرنے کی ذمہ داری پولیس اور استغاثہ پر زیادہ واضح طور پر ہونی چاہیے، عدالتوں کو ریمانڈ کے اختیارات احتیاط سے استعمال کرنے چاہئیں اور حراست کے لیے تحریری وجوہات درج کی جانی چاہئیں۔ کمیشن نے معمولی جرائم میں ذاتی ضمانت، نگرانی اور دیگر غیر حراستی متبادل پر بھی زور دیا۔

پالیسی پیپر میں استغاثہ کی مؤثر آزادی، کمزور شواہد والے مقدمات کے جلد جائزے، اور پروبیشن و پیرول قوانین کے بہتر نفاذ کی سفارش کی گئی ہے۔ ایچ آر سی پی کے چیئرپرسن اسد اقبال بٹ نے صورتحال کو دیرینہ بحران قرار دیتے ہوئے نظامی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ اعداد اور سفارشات کمیشن کی پالیسی رپورٹ پر مبنی ہیں؛ ان کا مقصد عدالتوں کے کسی انفرادی مقدمے میں جرم یا بے گناہی کا فیصلہ کرنا نہیں بلکہ مجموعی نظامِ انصاف اور حراستی پالیسی کا جائزہ پیش کرنا ہے۔