اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کی موجودہ سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ وفد پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سے مذاکرات کرے گا۔ یہ فیصلہ ایوانِ صدر میں ہونے والی ملاقات کے دوران کیا گیا، جس میں سیاسی کشیدگی، خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال اور پی ٹی آئی کے اعلان کردہ اسلام آباد مارچ کے پس منظر کا جائزہ لیا گیا۔

ایکسپریس ٹریبیون اور بزنس ریکارڈر کی رپورٹس کے مطابق مشترکہ وفد میں وفاقی حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ اور وفاقی وزیر امیر مقام شامل ہوں گے، جبکہ پیپلز پارٹی کی نمائندگی شیری رحمان، سید نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی کریں گے۔ دونوں رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ وفد کا مقصد تحریک انصاف کی قیادت کے ساتھ موجودہ سیاسی صورتحال پر بات چیت کرنا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب تحریک انصاف نے اپنا اسلام آباد مارچ 4 اکتوبر کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ احتجاج پہلے 27 ستمبر کے لیے اعلان کیا گیا تھا جسے بعد میں 4 اکتوبر تک مؤخر کیا گیا۔ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی تناؤ کے باعث مختلف حلقوں میں مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا تھا۔

صدر اور وزیراعظم کی ملاقات میں ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال بھی زیر بحث آئی۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق اجلاس میں خصوصاً خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ تاہم دستیاب سرکاری و صحافتی معلومات میں مذاکرات کے ایجنڈے، ممکنہ شرائط یا کسی حتمی مفاہمت کی تفصیل سامنے نہیں آئی، اس لیے اس مرحلے پر یہ پیش رفت ایک رابطہ اور مذاکراتی عمل کے آغاز کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، نہ کہ کسی طے شدہ سیاسی معاہدے کے طور پر۔

سیاسی فریقوں کے درمیان بات چیت کے نتائج کا انحصار آئندہ ملاقاتوں اور دونوں جانب سے پیش کیے جانے والے مؤقف پر ہوگا۔ اب تک جاری معلومات کے مطابق مشترکہ وفد پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات کر کے سیاسی کشیدگی اور مجوزہ احتجاج کے تناظر میں راستہ نکالنے کی کوشش کرے گا۔