لاہور: پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور 15 ستمبر کو منعقد ہوگا۔ جماعت اسلامی کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ نشست پہلے پیر کے لیے طے تھی، تاہم وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر اسے منگل تک مؤخر کیا گیا۔ پارٹی کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے حکومت کا پیغام جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ تک پہنچایا۔

جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں وہ پیٹرولیم لیوی سے متعلق اپنا مؤقف اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے اپنی تجاویز دوبارہ حکومتی کمیٹی کے سامنے رکھے گی۔ دونوں فریق اس معاملے پر اب تک دو ادوار میں بات چیت کر چکے ہیں۔ مذاکراتی عمل اس پس منظر میں شروع ہوا تھا کہ حکومت اور جماعت اسلامی نے ماہرین پر مشتمل کمیٹیاں بنانے اور پیٹرولیم لیوی میں کمی کے امکانات کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا تھا۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی نے 7 ستمبر کو ہونے والے پہلے دور میں چھ تجاویز پیش کی تھیں۔ لیاقت بلوچ نے اس موقع پر مؤقف اختیار کیا تھا کہ پیٹرول اور ڈیزل پر براہ راست عائد لیوی معیشت اور صارفین پر بوجھ بڑھا رہی ہے۔ پارٹی نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے دوران اس کی احتجاجی سرگرمیاں بھی جاری رہیں گی۔ جماعت اسلامی اگست کے وسط سے لاہور، پشاور، کراچی اور ملک کے دیگر مقامات پر پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج کرتی آ رہی ہے۔

پارٹی سربراہ حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر لیوی واپس نہ لی گئی تو احتجاجی تحریک 20 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔ یہ اعلان مذاکرات پر سیاسی دباؤ میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم حکومت کی جانب سے لیوی ختم کرنے کا کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

رپورٹ کے مطابق آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں، یعنی آئی پی پیز، سے متعلق امور پر الگ مذاکرات بدھ کو متوقع ہیں۔ اس طرح موجودہ مذاکراتی عمل میں ایندھن پر ٹیکس اور بجلی کے شعبے کے مالی معاملات دو الگ مگر عوامی اخراجات سے جڑے موضوعات کے طور پر زیر بحث رہیں گے۔ آئندہ نشست کے نتائج سے یہ واضح ہوگا کہ فریقین پیٹرولیم لیوی میں کمی یا کسی متبادل ریلیف فارمولے پر کس حد تک پیش رفت کرتے ہیں۔