اسلام آباد کے سرکاری تعلیمی نظام میں ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے ایک خودمختار ایجوکیشن اتھارٹی قائم کرنے کی تجویز پر کام تیز کر دیا گیا ہے۔ منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے جوائنٹ کمیٹی برائے آئی سی ٹی ایجوکیشن ریفارمز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت کے تعلیمی نظام کے لیے تیز رفتار اور قابل عمل اصلاحاتی منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے اور خودمختار اتھارٹی کے قیام کی تجویز کی بھی تائید کی ہے۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مجوزہ ادارے کا انتظامی ڈھانچہ روزمرہ سیاسی یا بیوروکریٹک مداخلت سے نسبتاً محفوظ اور پیشہ ورانہ نوعیت کا ہو۔ احسن اقبال نے کہا کہ بورڈ آف گورنرز میں آزاد ارکان کی اکثریت ہونی چاہیے جبکہ چیف ایگزیکٹو افسر کا انتخاب میرٹ پر کیا جائے۔ اتھارٹی کے اختیارات، ذمہ داریاں اور شرائط بھی واضح طور پر متعین کرنے کی ہدایت دی گئی تاکہ موجودہ اور نئے انتظامی نظام کے درمیان ابہام پیدا نہ ہو۔
متعلقہ حکام کو مجوزہ اتھارٹی کے لیے ضروری قانون سازی اور منتقلی کا روڈمیپ 60 دن میں تیار کرنے کا کہا گیا ہے۔ اس دوران وفاقی نظامت تعلیم کی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رکھنے پر بھی زور دیا گیا، کیونکہ اسلام آباد میں سینکڑوں سرکاری تعلیمی اداروں کا روزمرہ انتظام اسی ادارے کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ سرکاری بریفنگ کے مطابق وفاقی نظامت تعلیم اس وقت دارالحکومت میں 432 تعلیمی اداروں کی نگرانی کرتی ہے، جبکہ نجی، غیر رسمی اور خصوصی تعلیمی اداروں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔
اجلاس میں 1,100 اساتذہ کی مجوزہ بھرتی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ منصوبہ بندی کے وزیر نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے جاری یا مجوزہ بھرتی کے طریقہ کار کا جائزہ لینے اور معاہداتی بنیادوں پر ایسے ماڈل پر غور کرنے کی بات کی جس کے ذریعے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان پیشہ ور افراد کو تدریسی شعبے میں لایا جا سکے۔ اس تجویز پر عملی فیصلہ متعلقہ قواعد، ملازمت کے تحفظ، معیار اور ادارہ جاتی ضروریات کو سامنے رکھ کر ہونا ہوگا۔
حکومت کے مطابق اصلاحات کا مقصد تعلیمی معیار، رسائی اور جوابدہی میں بہتری لانا ہے۔ مجوزہ تبدیلیوں کی کامیابی کا دارومدار قانون سازی کی وضاحت، موجودہ عملے اور اثاثوں کی منظم منتقلی، اساتذہ کی شفاف بھرتی، اسکولوں کی ضروریات کے درست ڈیٹا اور کارکردگی کی مسلسل نگرانی پر ہوگا۔ ابھی یہ عمل اصلاحاتی منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہے اور اتھارٹی کے حتمی قانونی ڈھانچے اور نفاذ کی تفصیلات آئندہ مراحل میں سامنے آئیں گی۔
