اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی جانب سے نجی اسپتال میں علاج اور اہل خانہ سے واٹس ایپ کے ذریعے رابطے کی اجازت کے لیے دائر درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ ڈان کی 28 اگست کی رپورٹ کے مطابق جسٹس محمد آصف نے درخواست گزاروں کے وکیل، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ اور جیل حکام کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔

درخواستیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں اویس الطاف، الیاس خان اور محمد اسماعیل نے دائر کی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ مطلوبہ طبی سہولتیں سرکاری اسپتالوں میں دستیاب نہیں، اس لیے انہیں نجی اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے اہل خانہ سے واٹس ایپ کال کے ذریعے بات چیت کی سہولت بھی مانگی ہے۔ یہ درخواست گزاروں کے مطالبات ہیں؛ عدالت نے اس مرحلے پر نہ نجی اسپتال منتقلی کا حکم دیا ہے اور نہ رابطے کی درخواست منظور یا مسترد کی ہے۔

سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل نے کہا کہ ایک قیدی خون بہنے کی سنگین بیماری میں مبتلا ہے اور بڑی آنت میں اندرونی خون ریزی پیدا ہوئی ہے جو جان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ وکیل کے مطابق اس قیدی کو تقریباً چھ ماہ کی قید کے دوران علاج کے لیے متعدد مرتبہ اسپتال لے جایا گیا۔ یہ طبی تفصیلات وکیل کے دلائل کے طور پر رپورٹ ہوئی ہیں؛ ڈان کی خبر میں کسی آزاد میڈیکل بورڈ کی مکمل رپورٹ یا عدالت کی جانب سے ان دعوؤں کی حتمی توثیق شامل نہیں۔

وکیل نے یہ استدلال بھی کیا کہ اگر جیل یا سرکاری اسپتال میں ضروری علاج میسر نہ ہو تو قیدی کو نجی اسپتال منتقل کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ قیدی بھی شہری ہیں اور قانون کے سامنے مساوی سلوک کے حق دار ہیں۔ درخواستوں کا پس منظر سپریم کورٹ کے 18 اگست کے اس حکم سے جڑا ہے جس میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے نجی اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ تاہم موجودہ تینوں درخواستوں کا فیصلہ الگ حقائق اور قانونی دلائل پر ہونا ہے۔

رپورٹ کے مطابق محمد اسماعیل زیر سماعت قیدی ہیں، تقریباً چھ ماہ سے جیل میں ہیں اور وکیل نے ان کے دل کے عارضے میں مبتلا ہونے کا دعویٰ کیا۔ وکیل نے الزام عائد کیا کہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے ڈاکٹر سے مشورہ کیے بغیر علاج کی درخواست مسترد کی۔ چونکہ یہ الزام درخواست گزار فریق کی طرف سے پیش ہوا ہے اور رپورٹ میں جیل انتظامیہ کا تفصیلی تحریری جواب موجود نہیں، اس لیے اسے ثابت شدہ انتظامی خلاف ورزی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل نے نجی اسپتال منتقل کرنے کی درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حکام قانون اور جیل قواعد کے مطابق عمل کریں گے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ قواعد پاکستان میں رہنے والے افراد کو کال کی اجازت دیتے ہیں اور اگر کسی بیماری کا علاج سرکاری اسپتال میں ممکن نہ ہو تو غیر معمولی حالات پر غور کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے طبی علاج اور اہل خانہ سے رابطے کو دو الگ معاملات کے طور پر دیکھا۔

جسٹس محمد آصف نے سماعت کے دوران مشاہدہ کیا کہ محض جیل میں ہونے کی وجہ سے قیدیوں کے حقوق نظرانداز نہیں کیے جا سکتے اور بیماری کے معاملے سے نہیں کھیلا جا سکتا۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ قانون میں قیدی کو اپنے خاندان سے بات کرنے سے کہاں روکا گیا ہے۔ یہ سماعت کے دوران عدالتی مشاہدات ہیں؛ محفوظ فیصلہ جاری ہونے تک انہیں حتمی حکم، عمومی پالیسی یا تمام قیدیوں کے لیے خودکار اجازت نہیں سمجھا جا سکتا۔

اس مقدمے میں آئندہ اہم پیش رفت تحریری فیصلے کے اجرا سے ہوگی، جس سے معلوم ہوگا کہ عدالت علاج کی جگہ، طبی جانچ، جیل قواعد اور رابطے کی سہولت کے بارے میں کیا ہدایات دیتی ہے۔ موجودہ مرحلے پر تصدیق شدہ عدالتی صورت حال صرف یہ ہے کہ دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ ہے۔ طبی حالت، سہولتوں کی عدم دستیابی اور جیل انتظامیہ کے رویے سے متعلق دعوؤں کو درخواست گزاروں کے وکیل سے منسوب رکھا گیا ہے۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک