محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے صوبے کے اسپتالوں کو ہدایت کی ہے کہ مریضوں، تیمارداروں اور عملے کے محفوظ انخلا کے انتظامات کا فوری جائزہ لیا جائے اور متعلقہ حصوں کا جامع جسمانی معائنہ 72 گھنٹے میں مکمل کیا جائے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر نعیم اعوان کی جانب سے ضلعی صحت افسران اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو جاری ہدایات میں آگ بجھانے کے آلات، ہنگامی راستوں، برقی نظام اور آکسیجن کے محفوظ انتظام کو مرکزی ترجیح دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ فائر ایکسٹنگوشرز، ہائیڈرنٹس، ہوز، الارم اور دوسرے حفاظتی آلات فوراً چیک کیے جائیں اور خراب سامان تبدیل کیا جائے۔ طبی آکسیجن کے سلنڈرز کو مناسب اور محفوظ جگہ پر رکھا جائے، جبکہ ضرورت سے زیادہ سلنڈر کلینیکل کمروں میں جمع نہ کیے جائیں۔ ہدایات میں برقی کنکشن، ایئر کنڈیشننگ یونٹس، ڈسٹری بیوشن بورڈز اور طبی مشینری سمیت آگ کے ممکنہ ذرائع کے معائنے کا بھی کہا گیا ہے۔
نرسریوں، نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹس، لیبر رومز، آپریشن تھیٹرز اور دوسرے زیادہ حساس حصوں کے لیے خصوصی انتظامات مطلوب ہیں۔ ہر رات کی شفٹ میں ایک عملے کے رکن کو فائر وارڈن نامزد کرنے، ہنگامی انخلا کا تحریری منصوبہ نمایاں جگہوں پر رکھنے اور عملے کی ذمہ داریاں واضح کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ تمام متعلقہ کارکنوں کو ہنگامی دروازوں، آگ بجھانے والے آلات اور آکسیجن بند کرنے کے مقامات سے واقف کرانا بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔
محکمہ صحت نے کہا ہے کہ ایسے آکسیجن پر منحصر بستر یا بچوں کے کاٹ، جن کے لیے صرف ایک قابل استعمال راستہ موجود ہو، دوسری محفوظ راہ فراہم ہونے تک منتقل کیے جائیں یا استعمال محدود کیا جائے۔ ہدایات میں ہنگامی راستوں کو کھلا اور رکاوٹ سے پاک رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بند دروازوں، خراب آلات یا مسلسل غیر محفوظ حالات کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور قواعد کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔
یہ احکامات صرف بڑے تدریسی اسپتالوں تک محدود نہیں بلکہ ماتحت دفاتر اور بنیادی صحت مراکز تک نافذ کرنے کے لیے جاری کیے گئے ہیں۔ متعلقہ اداروں کو 72 گھنٹے کے معائنے کے بعد دستخط شدہ تعمیلی سرٹیفکیٹ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز کو جمع کرانا ہوگا۔ صوبائی سطح کے اجلاس میں سول ڈیفنس، ریسکیو 1122، پی ڈی ایم اے، ریلیف حکام، میڈیکل سپرنٹنڈنٹس اور ضلعی صحت افسران نے موجودہ تیاری اور ردعمل کے طریقہ کار کا جائزہ لیا۔
محکمہ صحت نے ڈویژن اور ضلع کی سطح پر فائر سیفٹی کمیٹیاں بنانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ یہ کمیٹیاں صحت مراکز کا معائنہ کرکے حفاظتی آلات، انخلا کے راستوں اور ہنگامی ردعمل سے متعلق رپورٹیں تیار کریں گی۔ یہ خبر ایک انتظامی حکم اور تعمیل کے مقررہ عمل سے متعلق ہے؛ رپورٹ میں یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ تمام مراکز پہلے ہی معائنہ مکمل کر چکے ہیں یا ہر خامی دور ہو گئی ہے۔ اصل پیش رفت کا تعین جمع ہونے والے سرٹیفکیٹس اور بعد کے عملی معائنوں سے ہوگا۔




