اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی عرب کے وزیر ماحولیات، پانی و زراعت عبدالرحمن بن عبدالمحسن الفضلی نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان زراعت، پانی اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ڈان کی 28 اگست کی رپورٹ کے مطابق ملاقات وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہوئی اور اس کی تفصیلات وزیراعظم آفس کے بیان میں جاری کی گئیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ملکوں کے دیرینہ تعلقات کو زیادہ مضبوط تجارتی اور سرمایہ کاری شراکت میں بدلنے کے لیے اقتصادی اور زرعی روابط گہرے کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق ملاقات میں پاکستان سے سعودی عرب کو زرعی مصنوعات کی برآمد کے حوالے سے حالیہ رابطوں پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ رپورٹ میں کسی نئے برآمدی معاہدے، مقدار، مالی قدر یا مخصوص مصنوعات کی حتمی فہرست نہیں دی گئی، اس لیے اسے دستخط شدہ تجارتی سودے کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔
دونوں فریقوں نے پاکستان میں زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، تحقیق و ترقی اور پانی کے زیادہ مؤثر استعمال کے امکانات پر گفتگو کی۔ یہ موضوع پاکستان کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ پیداوار، معیار، پانی کی دستیابی اور برآمدی تقاضوں کو ایک ساتھ بہتر بنائے بغیر نئی منڈیوں سے مستقل فائدہ اٹھانا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم دستیاب بیان میں کسی خاص ٹیکنالوجی، تحقیقی منصوبے، بجٹ یا نفاذ کی مدت کی تفصیل شامل نہیں۔
وزیراعظم نے اعلان کیا کہ پاکستانی زرعی ماہرین کا ایک وفد جلد ریاض کا دورہ کرے گا تاکہ زیر بحث امور کو آگے بڑھایا جا سکے اور شراکت کے امکانات کو عملی شکل دینے پر کام ہو۔ یہ مجوزہ دورہ آئندہ قدم ہے، مکمل شدہ دورہ یا منظور شدہ منصوبہ نہیں۔ وفد کی حتمی تاریخ، ارکان، ایجنڈا اور ممکنہ معاہدوں کی تفصیل وزیراعظم آفس کے جاری بیان میں نہیں بتائی گئی۔
سعودی وزیر نے پاکستان کی جانب سے دی گئی میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور زراعت، پانی اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے سعودی عرب کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس بیان سے دونوں طرف کی سیاسی آمادگی ظاہر ہوتی ہے، لیکن کسی سرمایہ کاری، خریداری یا تکنیکی منصوبے کا حتمی نتیجہ متعلقہ مذاکرات، تجارتی شرائط اور بعد میں جاری ہونے والی دستاویزات سے واضح ہوگا۔
ملاقات میں وزیراعظم نے 7 اگست کو سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق معاہدے نے تینوں ملکوں کو قریب کیا اور خطے میں اتحاد اور امن کا پیغام دیا۔ ڈان نے وزیراعظم آفس کے حوالے سے بتایا کہ معاہدہ اجتماعی سلامتی، دفاعی تعاون اور علاقائی امن و استحکام کو مضبوط کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ وزیراعظم اور سرکاری بیان کا مؤقف ہے؛ موجودہ ملاقات میں کسی نئی دفاعی شق یا الگ سکیورٹی معاہدے کا اعلان نہیں ہوا۔
وزیراعظم نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کی اہمیت اجاگر کی۔ ملاقات کا عملی محور زراعت، پانی، غذائی تحفظ، تجارت اور سرمایہ کاری تھا، جبکہ مکہ معاہدے کا ذکر وسیع تر دوطرفہ اور سہ فریقی تعلقات کے پس منظر میں کیا گیا۔
اس پیش رفت کی اگلی قابل تصدیق منزل پاکستانی زرعی ماہرین کے ریاض دورے، اس کے باقاعدہ ایجنڈے اور کسی تحریری تعاون یا تجارتی نتیجے کا سامنے آنا ہوگی۔ فی الحال تصدیق شدہ خبر وزیراعظم آفس کی اطلاع کردہ ملاقات، تعاون کے بیان کردہ شعبے اور مجوزہ ماہرین وفد تک محدود ہے۔ ممکنہ برآمدات، سرمایہ کاری یا پیداوار میں اضافے کو مکمل شدہ نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




