اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزارتوں اور محکموں کی جانب سے ان کے فیصلوں پر عملدرآمد میں تاخیر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے 41 وفاقی سیکریٹریز اور اداروں کے سربراہان کو بروقت کارروائی، مؤثر فالو اپ اور بہتر رابطہ یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ ایکسپریس اردو کی 28 اگست کی رپورٹ کے مطابق یہ ہدایات وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری سرکاری مراسلے میں دی گئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مراسلہ ایک وفاقی وزارت کی جانب سے وزیراعظم کے ایک فیصلے پر فوری عمل نہ ہونے کی نشاندہی کے بعد جاری کیا گیا۔ تاہم مراسلے میں متعلقہ وزارت کا نام نہیں بتایا گیا، اس لیے کسی مخصوص وزارت یا افسر کو اس تاخیر کا ذمہ دار قرار دینا دستیاب معلومات سے ممکن نہیں۔ ہدایت کا دائرہ وفاقی سیکریٹریز اور متعلقہ محکموں کے سربراہان تک رکھا گیا ہے تاکہ آئندہ فیصلوں کے نفاذ میں ایسی رکاوٹ دوبارہ پیدا نہ ہو۔
وزیراعظم آفس کے مؤقف کے مطابق غیر ضروری تاخیر سے عوامی مفاد سے متعلق اہم امور کو نتیجہ خیز بنانے اور حکومتی انتظام کو مؤثر کرنے کی کوششیں متاثر ہوتی ہیں۔ مراسلے میں فیصلوں کے مقصد، متوقع نتائج اور بعد ازاں پیش رفت کی نگرانی پر توجہ کی کمی کا بھی ذکر کیا گیا۔ یہ نکات وزیراعظم آفس کا انتظامی جائزہ ہیں؛ رپورٹ میں کسی آزاد آڈٹ، عدالتی نتیجے یا انضباطی کارروائی کی تفصیل شامل نہیں۔
سرکاری ہدایت میں کہا گیا ہے کہ پالیسی فیصلوں پر مقررہ وقت کے اندر عملدرآمد کے ساتھ متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط کیا جائے۔ جن فیصلوں کے لیے ایک سے زیادہ وزارتوں کی شمولیت ضروری ہو، ان میں ذمہ داریوں، مدت اور فالو اپ کے عمل کو واضح رکھنے پر زور دیا گیا ہے تاکہ منظوری کے بعد فائلیں مختلف دفاتر میں رکی نہ رہیں۔
اس پیش رفت کا عملی اثر اس بات سے جانچا جائے گا کہ وزارتیں ہدایات کے بعد زیر التوا فیصلوں پر کتنی جلد پیش رفت کرتی ہیں اور وزیراعظم آفس نگرانی کے لیے کیا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ فی الحال رپورٹ میں کسی مخصوص فیصلے، تاخیر کی مدت، متاثرہ منصوبے یا ممکنہ مالی نقصان کی مقدار نہیں دی گئی۔ اسی لیے خبر کو عمومی انتظامی ہدایت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، کسی خاص منصوبے کی ناکامی یا بدعنوانی کے ثبوت کے طور پر نہیں۔
وزیراعظم آفس نے بروقت نفاذ، شفاف ذمہ داری اور جوابدہی کو حکومتی وعدوں سے جوڑا ہے۔ آئندہ اگر متعلقہ وزارت کی شناخت، عملدرآمد کی مدت، یا کسی فیصلے پر ٹھوس پیش رفت سامنے آتی ہے تو اسی واقعے کے ریکارڈ کو نئی معلومات کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ مرحلے پر تصدیق شدہ بات یہی ہے کہ 41 وفاقی سیکریٹریز اور اداروں کے سربراہان کو عملدرآمد اور رابطہ بہتر بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




