اسلام آباد: وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے اپنے خلاف سنائی گئی سزا کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق دونوں درخواست گزاروں نے اپیل کے ذریعے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے اور قانونی بنیادوں پر اپنے مقدمے کا دوبارہ جائزہ لینے کی استدعا کی ہے۔

یہ اپیل ایک ایسے مقدمے سے متعلق ہے جس میں دونوں وکلا کے خلاف قانونی کارروائی کے بعد سزا سنائی گئی تھی۔ درخواست گزاروں نے ہائیکورٹ کے سامنے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ماتحت عدالت کے فیصلے میں قانونی اور شواہد سے متعلق ایسے نکات موجود ہیں جن پر اپیلیٹ عدالت کی جانچ ضروری ہے۔ اپیل دائر ہونا بذات خود سزا کے خاتمے یا مقدمے کے حتمی نتیجے کے مترادف نہیں؛ اب اسلام آباد ہائیکورٹ متعلقہ ریکارڈ اور فریقین کے دلائل کی روشنی میں معاملے کا جائزہ لے گی۔

ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ مختلف انسانی حقوق اور قانونی معاملات میں وکالت کرتے رہے ہیں اور ان کے خلاف مقدمات نے ماضی میں بھی عدالتی اور عوامی توجہ حاصل کی ہے۔ تازہ اپیل میں بنیادی توجہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے اور سزا کی قانونی حیثیت پر ہے۔ درخواست گزاروں کے اعتراضات ان کا قانونی مؤقف ہیں اور ان پر ہائیکورٹ کا فیصلہ آنا باقی ہے۔

اپیلیٹ کارروائی میں عدالت عام طور پر ٹرائل کے ریکارڈ، پیش کیے گئے شواہد، متعلقہ قانون کے اطلاق اور فیصلے میں دی گئی وجوہات کا جائزہ لیتی ہے۔ ہائیکورٹ کے پاس قانون کے مطابق سزا برقرار رکھنے، اس میں تبدیلی کرنے یا فیصلہ کالعدم قرار دینے سمیت مختلف اختیارات ہو سکتے ہیں، تاہم کسی ممکنہ نتیجے کو عدالتی سماعت سے پہلے حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

مقدمے کی حساس نوعیت کے باعث الزامات، عدالتی احکامات اور حتمی عدالتی نتائج کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔ موجودہ پیش رفت صرف یہ ہے کہ سزا کے خلاف باقاعدہ اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دی گئی ہے۔ اپیل پر آئندہ سماعت اور عدالت کے احکامات ہی یہ طے کریں گے کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رہتا ہے یا اس میں کوئی تبدیلی آتی ہے۔

اس قانونی پیش رفت کے بعد مقدمہ اب اپیلیٹ مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ فریقین کو اپنے دلائل پیش کرنے کا موقع ملے گا اور عدالت دستیاب عدالتی ریکارڈ کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی۔