اسلام آباد: پاکستان میں رواں سال پولیو کا نواں کیس رپورٹ ہوا ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر اور قومی ادارہ صحت سے منسلک پولیو لیبارٹری کی معلومات کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے ایک بچے میں وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ ون کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد 2026 میں ملک بھر میں تصدیق شدہ پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 9 ہوگئی۔

پولیو وائرس بچوں کے اعصابی نظام کو متاثر کر سکتا ہے اور بعض صورتوں میں مستقل فالج کا باعث بنتا ہے۔ پاکستان دنیا کے ان محدود ممالک میں شامل رہا ہے جہاں وائلڈ پولیو وائرس کی مقامی منتقلی کے مکمل خاتمے کا ہدف ابھی حاصل نہیں ہوا۔ نئے کیس کی تصدیق اس امر کی یاد دہانی ہے کہ کم کیسز کے باوجود وائرس کی منتقلی کے سلسلے کو توڑنے کے لیے مسلسل ویکسینیشن اور نگرانی ضروری ہے۔

خیبر پختونخوا کے سرحدی اور بعض دشوار گزار علاقوں میں پولیو ٹیموں کو رسائی، آبادی کی نقل و حرکت اور سکیورٹی سمیت مختلف عملی چیلنجز کا سامنا رہتا ہے۔ صحت حکام بارہا واضح کر چکے ہیں کہ ہر مہم میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ ایک بچے کا ویکسینیشن سے رہ جانا بھی ایسے علاقوں میں خطرہ بڑھا سکتا ہے جہاں وائرس ماحولیاتی نمونوں یا انسانی کیسز کے ذریعے گردش کر رہا ہو۔

نئے کیس کی تصدیق کو کسی وسیع وبا کے اعلان کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ ایک لیبارٹری سے تصدیق شدہ انفرادی کیس ہے، جبکہ وائرس کے جغرافیائی پھیلاؤ کا اندازہ انسانی کیسز کے ساتھ سیوریج اور ماحولیاتی نمونوں کی نگرانی سے بھی کیا جاتا ہے۔ متعلقہ صحت ادارے عام طور پر نئے کیس کے بعد متاثرہ علاقے میں ویکسینیشن کی صورتحال، بچے کی سفری تاریخ اور وائرس کے جینیاتی تعلق کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ ممکنہ منتقلی کے سلسلے کی نشاندہی کی جا سکے۔

پولیو کے خاتمے کی حکمت عملی میں بار بار حفاظتی قطرے پلانے کی وجہ یہ ہے کہ زیادہ خطرے والے ماحول میں بچوں کو مضبوط مدافعت کے لیے متعدد خوراکیں درکار ہو سکتی ہیں۔ والدین سے اپیل کی جاتی ہے کہ ہر قومی یا ذیلی قومی مہم کے دوران اہل بچوں کو قطرے ضرور پلوائیں، خواہ وہ پہلے بھی پولیو ویکسین لے چکے ہوں۔

رواں سال کے نو کیسز کی مجموعی تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں پیش رفت یا پسپائی کا مکمل پیمانہ نہیں، کیونکہ پولیو کے خاتمے کا اصل ہدف مقامی وائرس کی منتقلی کو مکمل طور پر روکنا ہے۔ اس مقصد کے لیے کیس سرویلنس، ماحولیاتی نگرانی، بروقت ویکسینیشن اور دور دراز آبادیوں تک رسائی مسلسل اہم رہیں گے۔