اسلام آباد: پاکستان اور تاجکستان نے مشترکہ انسداد دہشت گردی مشق ’دوستی سوم‘ مکمل کر لی ہے۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق مشق 26 اکتوبر کو خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقے چیرات میں اسپیشل آپریشنز اسکول میں شروع ہوئی تھی اور جمعرات کو اختتام پذیر ہوئی۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق مشق کا مقصد انسداد دہشت گردی سے متعلق آپریشنل طریقہ کار کو بہتر بنانا، دونوں افواج کے تجربات کا تبادلہ کرنا اور مشترکہ تربیت کے ذریعے جنگی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا تھا۔ شرکا نے باہمی سیکھنے اور بہترین عملی طریقوں کے تبادلے پر بھی توجہ دی۔
پاکستانی فوج نے کہا کہ دوستی سوم دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ فوجی تعاون کی عکاسی کرتی ہے اور پاکستان و تاجکستان کے دوطرفہ دفاعی تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کی تجدید کرتی ہے۔ دونوں ممالک حالیہ برسوں میں دہشت گردی اور سرحد پار جرائم جیسے سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں تعاون بڑھا رہے ہیں۔
دوستی مشق کا دوسرا ایڈیشن اگست 2025 میں تاجکستان میں منعقد ہوا تھا۔ تیسرے ایڈیشن کا پاکستان میں انعقاد اس تربیتی سلسلے کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔ مشترکہ فوجی مشقیں عام طور پر مختلف افواج کو طریقہ کار، کمانڈ رابطے، میدان میں ردعمل اور مخصوص خطرات سے نمٹنے کے تجربات ایک دوسرے سے سیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
پاکستان اور تاجکستان کے تعلقات دفاع کے علاوہ تجارت، توانائی اور علاقائی رابطہ کاری تک پھیلے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ہیں، جبکہ کاسا-1000 بجلی منصوبہ وسطی ایشیا کی اضافی پن بجلی پاکستان تک پہنچانے کے لیے اہم علاقائی منصوبوں میں شامل ہے۔ اسلام آباد تاجکستان کو وسطی ایشیا تک زمینی و اقتصادی رسائی میں اہم شراکت دار سمجھتا ہے، جبکہ تاجکستان کے لیے پاکستان کی بندرگاہیں بحیرہ عرب تک ممکنہ تجارتی راستہ فراہم کرتی ہیں۔
آئی ایس پی آر نے مشق کے اختتام پر کسی نئے دفاعی معاہدے یا مستقل تعیناتی کا اعلان نہیں کیا۔ بیان کا مرکز تربیت، انسداد دہشت گردی کے تجربات اور دوطرفہ دفاعی روابط کو مضبوط کرنا تھا۔ دوستی سوم کی تکمیل سے دونوں افواج کے درمیان عملی سطح پر رابطہ اور مشترکہ تربیتی تعاون کا ایک اور مرحلہ مکمل ہوا ہے۔
