اسلام آباد: پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ مکہ دفاعی اتحاد کے سیکریٹری جنرل کی تقرری کے معاملے پر مشاورت جاری ہے، تاہم اس عہدے کے لیے کسی نام یا حتمی فیصلے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں اس معاملے سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے جاری رابطوں کی تصدیق کی۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ دونوں ملک دفاعی تعاون کے وسیع فریم ورک کے تحت رابطے میں ہیں اور سیکریٹری جنرل کی تقرری بھی اسی مشاورتی عمل کا حصہ ہے۔ حکام نے اس مرحلے پر ممکنہ امیدواروں، تقرری کی مدت یا ذمہ داریوں کی تفصیلی شرائط کے بارے میں معلومات جاری نہیں کیں۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو مشاورت کی سطح تک محدود سمجھا جا رہا ہے، نہ کہ کسی حتمی تقرری کے طور پر۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور دونوں ممالک تربیت، عسکری رابطوں اور علاقائی سلامتی کے معاملات میں تعاون کرتے رہے ہیں۔ مکہ دفاعی اتحاد سے متعلق حالیہ سفارتی سرگرمی اس تعاون کے ایک نئے ادارہ جاتی پہلو کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ تاہم اتحاد کی انتظامی ساخت اور اعلیٰ عہدوں سے متعلق تفصیلات باضابطہ اعلانات کے ذریعے ہی واضح ہوں گی۔
دفتر خارجہ کی تصدیق ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں سکیورٹی صورتحال اور خلیجی ممالک کے دفاعی انتظامات پر توجہ بڑھی ہوئی ہے۔ پاکستان نے عمومی طور پر سعودی عرب کے ساتھ دفاعی شراکت داری کو اہم قرار دیا ہے، لیکن حکام نے اس مخصوص تقرری کے بارے میں قیاس آرائیوں کی توثیق نہیں کی۔
سیکریٹری جنرل کا عہدہ کسی بھی کثیر فریقی دفاعی ڈھانچے میں انتظامی رابطہ، رکن ممالک کے درمیان مشاورت اور طے شدہ فیصلوں کے نفاذ میں اہم ہو سکتا ہے، تاہم مکہ دفاعی اتحاد میں اس منصب کے حتمی اختیارات اور دائرہ کار کے بارے میں مکمل سرکاری تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔ اسی لیے کسی ممکنہ امیدوار کے کردار یا مستقبل کی پالیسی سمت کے بارے میں قبل از وقت نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستانی حکام کے تازہ بیان کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ تقرری پر بات چیت جاری ہے۔ جب تک دونوں حکومتیں باضابطہ طور پر نام اور شرائط جاری نہیں کرتیں، اسے حتمی فیصلہ یا تقرری قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
