اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں ان ریسٹورنٹس اور کیفوں کے خلاف جبری اقدامات نہ کرنے کی ہدایت کی ہے جو متعلقہ مجاز حکام کے جاری کردہ اجازت ناموں یا لائسنس کے مطابق قانونی طور پر کاروبار کر رہے ہیں اور شیشہ فراہم کرتے ہیں۔ عدالت کا تحریری حکم 9 ستمبر کی کارروائی سے متعلق ہے، جس میں ضلعی انتظامیہ کو شیشہ کیفوں کے لیے جامع قواعد و ضوابط ایک ماہ کے اندر تیار کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

عدالت نے واضح کیا کہ اس حکم کا مطلب غیر قانونی سرگرمیوں کو تحفظ دینا نہیں ہے۔ اسلام آباد پولیس کو غیر قانونی شیشہ سرگرمیوں، منشیات سے متعلق جرائم اور اجازت ناموں کی خلاف ورزیوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھنے کا کہا گیا ہے۔ تحریری حکم میں کہا گیا کہ جہاں کوئی غیر قانونی سرگرمی یا پرمٹ کی خلاف ورزی سامنے آئے وہاں قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا، تاہم قانونی طور پر کام کرنے والے اداروں کے خلاف محض عمومی پالیسی کی بنیاد پر جبری اقدام نہیں ہونا چاہیے۔

عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ شیشہ کیفوں کے لیے باقاعدہ ریگولیٹری فریم ورک ابھی تک مکمل نہیں ہوا۔ Prohibition of Sheesha Smoking Rules 2023 وفاقی حکومت کے پاس زیر التوا ہیں، اس لیے عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اور اسلام آباد کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو متعلقہ حکام سے معاملہ اٹھانے اور ایک ماہ میں قواعد حتمی بنانے کے لیے پیش رفت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ عدالت نے عمل درآمد رپورٹ بھی طلب کی ہے اور مقدمہ 13 اکتوبر کو دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے شیشہ کیفوں پر مکمل پابندی کا اعلان کیا تھا، جس میں این او سی رکھنے والے ادارے بھی شامل تھے۔ عدالت کے سامنے دائر درخواستوں میں بعض کیفوں نے انتظامیہ اور پولیس کی کارروائیوں کو چیلنج کیا۔ سماعت کے دوران عدالت نے کاروباری مفادات کے ساتھ عوامی صحت، کم عمر افراد میں تمباکو نوشی اور منشیات کے خطرات کو بھی اہم قرار دیا۔ پولیس نے عدالت کو بتایا تھا کہ بعض کارروائیوں کے دوران کم عمر افراد کی موجودگی اور مزاحمت کے واقعات بھی سامنے آئے۔

عدالتی حکم کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ حکومت واضح، یکساں اور قابل عمل ضابطہ بنائے تاکہ قانونی اور غیر قانونی کاروبار میں فرق کیا جا سکے۔ اس دوران مجاز اجازت نامے رکھنے والے اداروں کو قانونی تحفظ حاصل رہے گا، جبکہ پولیس اور انتظامیہ کو خلاف ورزی، منشیات یا غیر مجاز سرگرمی کی صورت میں کارروائی کا اختیار برقرار رہے گا۔