اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں نرسری آتشزدگی سے بچوں کی اموات کے معاملے پر مقدمہ درج کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دینے سے متعلق درخواست میں وفاقی حکومت اور متعدد متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے واقعے کی انکوائری رپورٹ سمیت مکمل ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے وکیل ریاض حنیف راہی کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے اس حکم کو بھی معطل کر دیا جس کے ذریعے جسٹس آف پیس نے ایف آئی آر کے اندراج کی درخواست مسترد کی تھی۔ درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ پمز واقعے میں 14 نومولود موقع پر جاں بحق ہوئے جبکہ ایک بچہ بعد میں انتقال کر گیا، لیکن اب تک واقعے کا فوجداری مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

عدالت نے وزیراعظم آفس، وزارت صحت، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی، آڈیٹر جنرل، چیف کمشنر، ڈپٹی کمشنر، کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی، کیپیٹل ایمرجنسی سروسز، پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، اسلام آباد پولیس کے سربراہ اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل سمیت متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کیے۔

سماعت کے دوران درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ انکوائری میں غفلت کی نشاندہی ہوئی ہے اور اس بنیاد پر ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے۔ عدالت نے واضح کیا کہ وہ رپورٹس اور شواہد طلب کرے گی اور اگر قانونی طور پر غفلت ثابت ہوئی تو ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمات کے اندراج سے متعلق مناسب حکم دیا جا سکتا ہے۔ یہ عدالتی مشاہدہ حتمی فوجداری ذمہ داری کا فیصلہ نہیں ہے۔

اس سے قبل وزیراعظم کی قائم کردہ انکوائری کمیٹی نے واقعے میں نظامی اور ادارہ جاتی ناکامیوں کی نشاندہی کی تھی اور پمز انتظامیہ کی سطح پر حفاظتی خامیوں کا ذکر کیا تھا۔ رپورٹ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ کسی فرد کی فوجداری ذمہ داری متعلقہ قانون اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر الگ عمل میں طے کی جائے گی۔ ہائیکورٹ نے موجودہ درخواست کی مزید سماعت 12 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔ اس مرحلے پر عدالت نے مقدمہ درج کرنے کا حتمی حکم نہیں دیا بلکہ نوٹس، ریکارڈ طلبی اور سابق حکم کی معطلی کے اقدامات کیے ہیں۔