اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے مجوزہ احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران چاروں صوبوں کے انسپکٹر جنرل پولیس اور چیف سیکریٹریز سمیت متعلقہ حکام کو اگلی سماعت پر طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے حکام کو 11 ستمبر کو پیش ہونے کے لیے تازہ نوٹس جاری کیے۔
کیس کی سماعت چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں ہوئی۔ خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمان خیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی کا مجوزہ مارچ عدلیہ کی حمایت سے بھی متعلق ہے۔ چیف جسٹس نے اس مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کسی سیاسی جماعت کی مدد کی محتاج نہیں۔ عدالت میں یہ بحث اس درخواست کے تناظر میں ہوئی جس میں ایک شہری نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مجوزہ احتجاج وفاقی دارالحکومت میں معمولات زندگی، ٹریفک اور کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ سرکاری مشینری کو سیاسی احتجاج کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا اور کوئی سرکاری افسر آئین اور قانون کے خلاف حکم پر عمل کرنے کا پابند نہیں۔ انہوں نے کہا کہ واضح عدالتی احکامات سرکاری افسران کے لیے قانونی ذمہ داریوں پر عمل آسان بنا سکتے ہیں۔ عدالت نے 2024 کے ایک سابق حکم کا بھی حوالہ دیا جس میں اسلام آباد میں احتجاج اور ریلی سے متعلق پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کیا اور کہا کہ معاملہ قبل از وقت عدالت میں لایا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ اعلیٰ عدالتوں کے بعض سابق احکامات پر عمل درآمد نہیں ہوا اور اس سلسلے میں توہین عدالت کی درخواستیں دائر ہوتی رہی ہیں۔ چیف جسٹس نے انہیں اپنے دلائل کی تیاری کے لیے اگلے روز تک مہلت دی اور ماضی میں عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر کی گئی کارروائی کا ریکارڈ بھی پیش کرنے کو کہا۔
پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے مقاصد میں پارٹی بانی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ اور آئین کی بالادستی کے لیے عوامی رابطہ شامل بتایا گیا ہے۔ موجودہ کارروائی میں عدالت نے ابھی مجوزہ مارچ کے قانونی جواز پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا؛ سماعت جاری ہے اور فریقین کے مؤقف اور انتظامی تیاریوں کا جائزہ اگلی سماعتوں میں لیا جائے گا۔




