اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت اور متعلقہ شہری اداروں سے دارالحکومت میں فائر سیفٹی قوانین کے مبینہ عدم نفاذ کی وضاحت طلب کر لی ہے۔ چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے عمارتوں کے جامع حفاظتی آڈٹ اور لازمی فائر سیفٹی این او سی کے بغیر کام کرنے والے مقامات کے خلاف کارروائی کی درخواست پر جواب دہندگان کو دو ہفتوں میں رپورٹ اور پیراوائز جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔

عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ رکھا گیا کہ اسلام آباد فائر پریوینشن اینڈ لائف سیفٹی ریگولیشنز 2010 میں معائنہ، اصلاحی احکامات، خطرناک عمارتوں کے انخلا اور ضرورت پڑنے پر سیل کرنے کے اختیارات موجود ہونے کے باوجود عملدرآمد کی موجودہ صورتِ حال کیا ہے۔ عدالت نے پوچھا کہ کیا تجارتی، رہائشی، تعلیمی اور طبی عمارتوں کو لازمی حفاظتی کلیئرنس کے بغیر کام کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ دارالحکومت کی متعدد عمارتوں میں آگ بجھانے کا مناسب سامان، ہنگامی اخراج، الارم اور مطلوبہ این او سی موجود نہیں۔ یہ دعوے درخواست کا حصہ ہیں اور ابھی عدالت کے حتمی طور پر ثابت شدہ نتائج نہیں۔ درخواست میں تمام عمارتوں کا فوری فائر سیفٹی آڈٹ، خلاف ورزی کرنے والے مقامات کی عوامی فہرست اور قواعد پورے ہونے تک خطرناک عمارتیں سیل کرنے کی ہدایات مانگی گئی ہیں۔

درخواست میں ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن کو مؤثر فائر سیفٹی این او سی سے مشروط کرنے کی استدعا بھی کی گئی، کیونکہ ان جگہوں پر مریض، بچے اور دیگر نسبتاً غیر محفوظ افراد موجود ہوتے ہیں۔ درخواست گزار نے آئین کے آرٹیکل 9، 14 اور 25 کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ بنیادی حفاظتی معیارات نافذ نہ کرنا زندگی، وقار اور مساوات کے حقوق کو متاثر کرتا ہے۔ اس قانونی مؤقف پر فیصلہ ابھی باقی ہے۔

سماعت کا پس منظر 26 اگست کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، پمز، کے نوزائیدہ بچوں کے شعبے میں لگنے والی مہلک آگ ہے۔ اس سانحے کے بعد دارالحکومت کی دوسری عمارتوں کی تیاری اور معائنے پر بھی سوالات اٹھے۔ عدالت نے موجودہ درخواست کو پمز آگ کی عدالتی انکوائری سے متعلق ایک اور مقدمے کے ساتھ یکجا کر دیا، کیونکہ دونوں میں مانگی گئی بعض امداد اور بنیادی حفاظتی سوالات ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت پہلے بھی پمز اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لے کر وزیراعظم اور اسپیکر کو سفارشات بھیج چکی تھی۔ چیف جسٹس نے وفاق کو ہدایت کی کہ وہ اپنی تفصیلی رپورٹ میں ان سابق سفارشات پر ہونے والی کارروائی بھی واضح کرے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو بھی معاملے کا جائزہ لینے کی ہدایت دی۔

2010 کے قواعد کے مطابق معائنہ کرنے والے حکام عمارت میں کمیوں کی نشاندہی، اصلاح کے لیے مدت مقرر اور خطرناک صورت میں انخلا کا حکم دے سکتے ہیں۔ عدم تعمیل کی صورت میں پولیس کی مدد سے عمارت خالی اور مجسٹریٹ کی موجودگی میں سیل کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے۔ مقدمے کا مرکز یہی ہے کہ یہ اختیارات عملی طور پر کس حد تک استعمال ہوئے اور کیا نگرانی کا مستقل نظام موجود ہے۔

عدالت نے ابھی کسی مخصوص عمارت کو غیر محفوظ قرار نہیں دیا اور نہ ہی تمام عمارتیں سیل کرنے کا حتمی حکم جاری کیا ہے۔ موجودہ پیش رفت جواب، ریکارڈ اور سرکاری کارروائی کی تفصیل طلب کرنے کا عدالتی حکم ہے۔ اگلی سماعت 24 ستمبر مقرر کی گئی ہے، جہاں حکومتی رپورٹ کے بعد درخواستوں کے آئندہ مرحلے کا تعین ہوگا۔