کراچی: جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نے اگست 2024 کے کارساز روڈ حادثے کے بعد درج کیے گئے الگ منشیات مقدمے میں نتاشا دانش کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا ہے۔ 4 ستمبر 2026 کی سماعت میں عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمہ کے خلاف عائد الزام ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔
یہ مقدمہ 19 اگست 2024 کے سڑک حادثے کے مرکزی قتل یا غیر ارادی قتل مقدمے سے الگ تھا۔ اس حادثے میں نتاشا دانش کے زیرِ استعمال اسپورٹس یوٹیلیٹی گاڑی نے کارساز روڈ پر تین موٹر سائیکلوں اور ایک دوسری گاڑی کو ٹکر ماری تھی، جس کے نتیجے میں 60 سالہ عمران عارف اور ان کی 22 سالہ بیٹی آمنہ جاں بحق جبکہ تین افراد زخمی ہوئے تھے۔
حادثے کے بعد پولیس نے ابتدائی طور پر جان لیوا ڈرائیونگ سے متعلق مقدمہ درج کیا۔ بعد میں سندھ پولیس کے سربراہ نے ایک طبی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ڈرائیور کے نمونے میں میتھ ایمفیٹامین، جسے کرسٹل میتھ یا آئس کہا جاتا ہے، کی موجودگی ظاہر ہوئی۔ اسی بنیاد پر امتناعِ شراب و منشیات سے متعلق 1979 کے حکم کی دفعہ 11 کے تحت الگ ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ اس وقت کا پولیس مؤقف الزام اور تفتیشی نتیجہ تھا، حتمی عدالتی فیصلہ نہیں۔
تازہ سماعت میں دفاعی وکیل فواد علی کھیچی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ نتاشا دانش کے کیمیائی معائنے اور خون کے ٹیسٹ میں میتھ ایمفیٹامین کے آثار نہیں ملے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں پولیس پر نمونوں میں ردوبدل اور تفتیشی افسر پر خون کی رپورٹ چھپانے کا الزام بھی لگایا۔ یہ دفاع کے دعوے ہیں؛ دستیاب عدالتی رپورٹنگ میں کسی پولیس اہلکار کے خلاف نمونوں میں جعل سازی کا الگ ثابت شدہ فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
عدالت کا قابلِ تصدیق نتیجہ یہ ہے کہ استغاثہ دستیاب شواہد سے منشیات کے استعمال کا الزام مطلوبہ قانونی معیار پر ثابت نہیں کر سکا، چنانچہ ملزمہ کو اس مقدمے میں بری کر دیا گیا۔ بریت کا مطلب یہ ہے کہ اس مخصوص فوجداری مقدمے میں سزا کی بنیاد نہیں بنی؛ یہ دفاع کے ہر الزام کی خودکار عدالتی توثیق نہیں اور نہ ہی اس سے 2024 کے حادثے کے تمام حقائق دوبارہ طے ہوئے۔
منشیات مقدمے میں نتاشا دانش نے پہلے بھی بریت کی درخواست دی تھی، جسے مئی 2025 میں ایک جوڈیشل مجسٹریٹ نے مسترد کر دیا تھا۔ اس سے قبل نچلی عدالتوں نے ان کی ضمانت کی درخواستیں بھی رد کی تھیں، تاہم سندھ ہائیکورٹ نے بعد میں ضمانت منظور کی۔ تازہ حکم طویل قانونی کارروائی کے بعد مقدمے کے نتیجے سے متعلق ہے، نہ کہ محض عبوری ضمانت کا فیصلہ۔
مرکزی حادثہ مقدمے میں اکتوبر 2024 میں ایک ضلع و سیشن عدالت نے فریقین کے درمیان مصالحتی درخواست قبول کرتے ہوئے نتاشا دانش کو بری کیا تھا۔ متاثرہ خاندان نے اس سے پہلے انہیں معاف کرنے کے حلف نامے جمع کرائے تھے۔ وہ بریت باہمی سمجھوتے کی بنیاد پر ہوئی تھی، جبکہ 4 ستمبر 2026 کی منشیات مقدمے کی بریت استغاثہ کی جانب سے الزام ثابت نہ ہونے کی بنیاد پر رپورٹ ہوئی ہے۔
دونوں فیصلوں کا قانونی جواز الگ رکھنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تازہ حکم حادثے میں ہونے والی دو اموات کو رد نہیں کرتا اور نہ ہی 2024 کی مصالحت کو دوبارہ کھولتا ہے۔ موجودہ خبر کا مرکزی اور محدود نتیجہ یہ ہے کہ عدالت نے منشیات کے الگ مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد کو سزا کے لیے ناکافی سمجھا اور ملزمہ کو بری کر دیا۔




