پاکستان نے خیبر پختونخوا کے آثارِ قدیمہ کے مقام رانی گٹ اور سندھ کی قدیم بندرگاہ بنبھور کو یونیسکو کی عالمی ورثہ فہرست میں شامل کرانے کا عمل آگے بڑھانے کے لیے عالمی ادارے سے فنی اور ادارہ جاتی تعاون طلب کیا ہے۔ یہ درخواست دو ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی اور پاکستان میں یونیسکو کے نمائندے فواد پاشایوف کے درمیان ملاقات میں پیش کی گئی۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سرکاری اعلامیے کے مطابق رانی گٹ اور بنبھور پہلے ہی پاکستان کی یونیسکو عارضی فہرست میں شامل ہیں۔ عالمی ورثہ مرکز کے ریکارڈ میں پاکستان کی عارضی فہرست پر مجموعی طور پر 37 مقامات درج ہیں۔ عارضی فہرست میں موجودگی خود عالمی ورثہ کا درجہ نہیں ہوتی؛ کسی مقام کی مستقل فہرست میں شمولیت کے لیے تفصیلی نامزدگی، تحفظ اور انتظامی منصوبہ، فنی جائزہ اور عالمی ورثہ کمیٹی کا فیصلہ درکار ہوتا ہے۔
ملاقات میں بتایا گیا کہ بنبھور سے متعلق عالمی ورثہ کمیٹی کے کام سے منسلک ایک دورہ چھ سے گیارہ ستمبر 2026 کے درمیان متوقع ہے۔ وفاقی سیکریٹری قومی ورثہ و ثقافت اسد رحمان گیلانی کو بھی وفد کے ساتھ شامل ہونے کی دعوت دی گئی۔ سرکاری بیان میں دورے کو حتمی منظوری یا فہرست میں فوری اندراج کے مترادف قرار نہیں دیا گیا، بلکہ اسے نامزدگی اور جائزے کے عمل سے متعلق پیش رفت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے یونیسکو سے پاکستانی آثارِ قدیمہ اور ثقافتی مقامات کی نامزدگیوں، تحفظ اور دستاویز سازی میں خصوصی معاونت مانگی۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی اہم مقامات کو بین الاقوامی فنی مدد اور زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ یونیسکو کے نمائندے نے ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ادارے کا دفتر ورثے کے تحفظ، فنی رابطے، آگاہی اور استعداد کار بڑھانے کو ترجیح دیتا رہے گا۔
اجلاس میں مادی ورثے کے ساتھ غیر مادی ثقافتی ورثے کا موضوع بھی زیر بحث آیا۔ وزارت نے چار منتخب پاکستانی کھانوں یا پکوانی روایات کو یونیسکو کے غیر مادی ثقافتی ورثہ فریم ورک میں لانے کے لیے رہنمائی طلب کی۔ اعلامیے میں ان چار روایات کے نام نہیں بتائے گئے۔ یونیسکو نمائندے نے وزارت سے باقاعدہ فہرست اور متعلقہ معلومات فراہم کرنے کو کہا تاکہ تجاویز کا جائزہ لیا جاسکے۔ اس لیے اس مرحلے پر کسی مخصوص پاکستانی کھانے کی نامزدگی یا منظوری کی تصدیق نہیں ہوئی۔
فواد پاشایوف نے وادی سندھ کی تہذیب کو موجودہ ایران اور شام کے راستے میسوپوٹیمیا سے ملانے والے قدیم تجارتی اور ثقافتی راستے پر مزید علمی تحقیق کی تجویز بھی دی۔ انہوں نے مختلف قدیم تہذیبوں سے ملنے والے آثار اور نوادرات میں مماثلت کی طرف توجہ دلائی۔ وفاقی وزیر نے مؤرخین اور ماہرین آثارِ قدیمہ کی کانفرنس منعقد کرنے پر غور کرنے کا عندیہ دیا، تاہم اس کی تاریخ یا تحقیقی پروگرام کا اعلان نہیں کیا گیا۔
دونوں فریقوں نے رباب اور ستار جیسے ثقافتی عناصر کی مشترکہ یا کثیرملکی نامزدگیوں، ماہرین کی تربیتی ورکشاپس اور صوبائی و وفاقی اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے پر بھی بات کی۔ وزارت نے تجویز دی کہ آثارِ قدیمہ کے مخصوص مقامات پر ہونے والی فنی ورکشاپس اسلام آباد میں بھی منعقد ہوں تاکہ تمام صوبوں کے متعلقہ افسر اور ماہرین شرکت کرسکیں۔
اس پیش رفت کا فوری نتیجہ رانی گٹ یا بنبھور کو عالمی ورثہ درجہ ملنا نہیں، بلکہ پاکستان کی جانب سے دونوں نامزدگیوں کو عارضی فہرست سے مکمل عالمی جائزے کی طرف بڑھانے کے لیے یونیسکو کی مدد مانگنا ہے۔ آئندہ قابلِ پیمائش مراحل میں نامزدگی دستاویزات کی تکمیل، تحفظ اور انتظام کے شواہد، فنی مشن کی سفارشات اور عالمی ورثہ کمیٹی کا باضابطہ فیصلہ شامل ہوں گے۔




