اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے گزشتہ تین برس کے دوران بیرون ملک جانے کے بعد لاپتا بتائے گئے 50 سے زائد پاکستانی شہریوں کے معاملے پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاون اٹارنی جنرل سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ڈان کے مطابق جسٹس ارباب محمد طاہر نے افضل حسین کی درخواست پر سماعت کے دوران سرکاری وکیل کو معاملے کا جائزہ لے کر آئندہ سماعت پر عدالت کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔ کیس کی اگلی سماعت 2 نومبر مقرر کی گئی ہے۔
درخواست گزار منڈی بہاؤالدین کی تحصیل پھالیہ کا رہائشی ہے اور اس نے وکیل شفقت عباس تارڑ کے ذریعے عدالت سے رجوع کیا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ علاقے کے 50 سے زیادہ نوجوان گزشتہ تین برس میں غیر روایتی ذرائع سے بیرون ملک گئے لیکن روانگی کے بعد ان کا سراغ نہیں مل سکا۔ یہ تعداد اور حالات درخواست گزار کی جانب سے عدالت کے سامنے پیش کیے گئے دعوے ہیں؛ عدالت نے ابھی ان تمام افراد کی گمشدگی کے اسباب یا موجودہ مقام کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ نہیں دیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ وزارت خارجہ کو متعلقہ ممالک میں قونصلر سطح پر تحقیقات شروع کرنے اور پاکستانی سفارت خانوں و قونصل خانوں کو لاپتا شہریوں کا سراغ لگانے کے لیے اقدامات کی ہدایت دی جائے۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ امیگریشن، سفری اور دیگر دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ متعلقہ افراد کن حالات میں ملک سے باہر گئے اور ان کی آخری معلوم نقل و حرکت کیا تھی۔
درخواست میں مزید استدعا کی گئی کہ اگر کسی مرحلے پر مجرمانہ سرگرمی کے شواہد سامنے آئیں تو متعلقہ حکام قانونی کارروائی کریں اور شہریوں کی محفوظ واپسی کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں۔ عدالت نے معاون اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلا کر معاملے کا جائزہ لینے اور آئندہ سماعت تک رپورٹ پیش کرنے کا کہا، جس کے بعد وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کارروائی 2 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔
اس مرحلے پر عدالت کا حکم بنیادی طور پر معلومات اور سرکاری رپورٹ طلب کرنے تک محدود ہے۔ نہ تو عدالت نے کسی انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کی ذمہ داری طے کی ہے اور نہ ہی لاپتا افراد کے بارے میں کسی مخصوص ملک یا ادارے کے کردار کا فیصلہ دیا ہے۔ آئندہ رپورٹ سے یہ واضح ہونے کی توقع ہے کہ وزارت خارجہ، امیگریشن حکام اور بیرون ملک پاکستانی مشنز کے پاس ان شہریوں سے متعلق کیا ریکارڈ یا معلومات دستیاب ہیں۔
