اسلام آباد: انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ نے سکیورٹی بریچ کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزاؤں کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ دونوں کی جانب سے دائر اپیلوں کے ساتھ الگ درخواستیں بھی جمع کرائی گئی ہیں جن میں اپیلوں کے حتمی فیصلے تک سزائیں معطل کرنے اور ضمانت پر رہائی کی استدعا کی گئی ہے۔

ڈان کے مطابق اپیلیں وکلا فیصل صدیقی، ریاست علی آزاد اور زینب جنجوعہ نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 25 کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 410 کے ساتھ پڑھتے ہوئے دائر کیں۔ درخواست گزاروں نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو قانونی اور حقائق کی بنیادوں پر چیلنج کیا ہے۔ ہائیکورٹ اب اپیلوں کے قابل سماعت ہونے اور سزا معطلی کی درخواستوں پر قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔

یہ مقدمہ ایک سکیورٹی بریچ واقعے سے متعلق ہے جس میں انسداد دہشت گردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو مجرم قرار دے کر سزا سنائی تھی۔ اپیل دائر ہونا سزا کے خاتمے یا بریت کے مترادف نہیں؛ اس مرحلے پر ٹرائل کورٹ کا فیصلہ موجود ہے اور ہائیکورٹ سے اس کے عدالتی جائزے کی درخواست کی گئی ہے۔ اسی طرح سزا معطلی کی درخواست کا فیصلہ بھی عدالت نے ابھی کرنا ہے۔

درخواست گزاروں کے وکلا نے اپیل میں ٹرائل، شواہد اور متعلقہ قانونی دفعات کے اطلاق سے متعلق اعتراضات اٹھائے ہیں۔ عدالتی اپیل کے عمل میں ہائیکورٹ ریکارڈ، ٹرائل کورٹ کے استدلال اور فریقین کے قانونی دلائل کا جائزہ لے سکتی ہے۔ عدالت اگر ضروری سمجھے تو استغاثہ سے جواب اور مقدمے کا مکمل ریکارڈ بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔

یہ مقدمہ اس لیے بھی توجہ کا مرکز رہا ہے کہ ایمان مزاری انسانی حقوق کے مقدمات میں سرگرم وکیل ہیں، جبکہ ان کے خلاف قانونی کارروائیوں پر مختلف حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔ تاہم موجودہ اپیل کا فیصلہ سیاسی یا عوامی ردعمل کے بجائے عدالت میں پیش کیے جانے والے قانونی نکات اور ریکارڈ کی بنیاد پر ہونا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواستوں کا فوری مقصد سزا کے خلاف اپیلیٹ فورم سے رجوع کرنا اور اپیل زیر سماعت رہنے کے دوران سزا کی معطلی حاصل کرنا ہے۔ آئندہ سماعت میں عدالت کی جانب سے نوٹس، ریکارڈ طلب کرنے یا عبوری ریلیف سے متعلق حکم سامنے آنے کی صورت میں مقدمے کی اگلی قانونی سمت واضح ہوگی۔