اسلام آباد: پاکستان اور برطانیہ نے انسداد دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، سائبر کرائم اور امیگریشن کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق یہ اتفاق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور پاکستان کے دورے پر آئے برطانوی وزیر مملکت برائے سلامتی ڈین جاروس کی قیادت میں وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں کیا گیا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی اجلاس میں شریک تھے۔

وزارت داخلہ کے مطابق دونوں فریقوں نے انسداد منشیات تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشت کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔ مجوزہ انتظام کے ذریعے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی اور پاکستان کی اینٹی نارکوٹکس فورس کے درمیان عملی تعاون کو مکمل طور پر فعال کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ دونوں ملکوں کی وزارت داخلہ کے درمیان قائم ورکنگ گروپ کا اجلاس بھی جلد بلانے پر اتفاق ہوا۔

محسن نقوی نے برطانوی وفد کو بتایا کہ پاکستان نے گزشتہ چند برسوں میں برطانیہ کی جانب منشیات اسمگل کرنے کی 330 کوششیں ناکام بنائی ہیں۔ انہوں نے یوکے پاکستان سیریس کرائم اینڈ لا انفورسمنٹ پروجیکٹ کے تحت ہونے والی پیش رفت کو پاکستانی اداروں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے اہم قرار دیا۔ یہ منصوبہ سنگین اور منظم جرائم کے خلاف ادارہ جاتی تعاون پر مرکوز ہے۔

برطانوی وزیر ڈین جاروس نے غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کی کارکردگی کو سراہا اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے سائبر کرائم کو سرحدوں سے ماورا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس چیلنج سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے ممالک کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق پاکستان اور برطانیہ مختلف شعبوں میں پہلے ہی تعاون رکھتے ہیں اور دونوں جانب اسے مزید وسعت دینے کی خواہش موجود ہے۔

یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب دونوں ممالک دہشت گردی، منظم جرائم، غیر قانونی نقل مکانی اور ویزا فراڈ جیسے معاملات پر رابطے بڑھا رہے ہیں۔ ڈین جاروس کا یہ پاکستان کا پہلا دورہ ہے، جس میں انہوں نے علاقائی استحکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون پر پاکستانی حکام سے بات چیت کی۔ اس سے قبل پاکستان اور برطانیہ کے سالانہ انسداد دہشت گردی مذاکرات میں افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

مذاکرات میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ اور دونوں ممالک کے متعلقہ حکام شریک ہوئے۔ فریقین کے اعلانات تعاون بڑھانے کی سیاسی سمت متعین کرتے ہیں، جبکہ انسداد منشیات مفاہمتی یادداشت کی حتمی منظوری اور ورکنگ گروپ کے آئندہ اجلاس اس تعاون کے عملی دائرہ کار اور نفاذ کی مزید تفصیل واضح کریں گے۔