اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وزیراعظم فیول ریلیف پروگرام کے تحت رجسٹرڈ مستحق شہریوں کو سبسڈی کی سہولت فراہم نہ کرنے والے پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کی جائے اور قواعد کی خلاف ورزی پر ان کے لائسنس منسوخ کیے جائیں۔ یہ ہدایت پروگرام پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ہونے والے اجلاس میں دی گئی۔

وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق اجلاس میں پروگرام کے اندراج، سبسڈی کی تقسیم اور نگرانی کے نظام کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ رجسٹریشن اور سبسڈی کی فراہمی کے طریقہ کار کو آسان بنانے سے مستحق شہریوں کی شرکت بڑھی ہے۔ انہوں نے پروگرام کے لیے تیار کیے گئے ٹیکنالوجی پر مبنی مانیٹرنگ اور ڈیش بورڈ نظام کی بھی تعریف کی اور اسے دیگر فلاحی اسکیموں کے لیے قابلِ استعمال ماڈل قرار دیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک تقریباً ایک کروڑ 55 لاکھ 19 ہزار شہری اس اسکیم میں رجسٹر ہو چکے ہیں۔ ان میں تقریباً ایک کروڑ 50 لاکھ 60 ہزار موٹر سائیکل مالکان اور چار لاکھ 49 ہزار تک 800 سی سی انجن والی گاڑیوں کے مالکان شامل ہیں۔ حکام کے مطابق اسکیم کے تحت چھ کروڑ 31 لاکھ سے زیادہ فیول ٹوکن جاری کیے گئے، جن میں سے پانچ کروڑ 94 لاکھ سے زیادہ استعمال ہو چکے تھے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ 4 نومبر تک فیول سبسڈی کی مد میں 28.6 ارب روپے کی ادائیگیاں کی جا چکی تھیں۔ صارفین اور پیٹرول پمپ آپریٹرز کی رہنمائی اور شکایات کے ازالے کے لیے الگ کال سینٹرز قائم کیے جانے کی اطلاع بھی دی گئی۔ وزیراعظم کی تازہ ہدایت کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ سرکاری سبسڈی منظور شدہ صارف تک عملی طور پر پہنچے اور کسی پمپ کی جانب سے پروگرام میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔

فیول ریلیف پروگرام کا اعلان ستمبر میں موٹر سائیکل، رکشا اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کے لیے کیا گیا تھا۔ اسکیم کے تحت دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے اہل مالکان کو ماہانہ 20 لیٹر تک فی لیٹر 100 روپے سبسڈی دی جاتی ہے، جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے اہل مالکان کے لیے یہی رعایت ماہانہ 30 لیٹر تک مقرر ہے۔

پروگرام کی افادیت کا انحصار رجسٹریشن کے ساتھ ساتھ پیٹرول پمپس پر اس کے بلا تعطل نفاذ پر بھی ہے۔ اسی لیے لائسنس منسوخی کی ہدایت انتظامی نگرانی کو سخت کرنے کا اشارہ ہے۔ حکومت نے اجلاس میں تقسیم شدہ رقم اور استعمال شدہ ٹوکن کے اعداد و شمار پیش کیے ہیں، تاہم مستقبل میں پروگرام کی مجموعی مالی لاگت، شکایات کے رجحان اور خلاف ورزی کرنے والے پمپس کے خلاف عملی کارروائی کے اعداد و شمار اس کی کارکردگی جانچنے کے لیے اہم رہیں گے۔