لندن: پاکستان اور برطانیہ نے دہشت گردی، منظم جرائم اور غیر قانونی امیگریشن سمیت مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے لندن میں برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود سے ملاقات کی، جس میں دونوں ملکوں کے درمیان داخلی سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے متعلق معاملات زیر غور آئے۔

ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات، منظم جرائم کی روک تھام اور غیر قانونی نقل مکانی کے مسائل پر خصوصی توجہ دی گئی۔ دونوں وزرا نے اس بات پر زور دیا کہ سرحد پار نوعیت کے جرائم اور شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے معلومات کے تبادلے اور ادارہ جاتی روابط کو مؤثر بنانا ضروری ہے۔ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان پہلے سے موجود سکیورٹی روابط کو عملی سطح پر مزید آگے بڑھانے کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔

محسن نقوی نے برطانوی ہم منصب کو پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا۔ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان کی مالی و عملی معاونت کے خلاف بین الاقوامی تعاون داخلی سلامتی کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ ملاقات میں ایسے جرائم کے خلاف مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا جن کے روابط ایک سے زیادہ ملکوں تک پھیلے ہوتے ہیں۔

غیر قانونی امیگریشن بھی گفتگو کا اہم موضوع رہی۔ پاکستان اور برطانیہ دونوں اس شعبے میں قانونی طریقہ کار، دستاویزات کی جانچ اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ غیر قانونی نقل مکانی سے متعلق معاملات میں انسانی اسمگلنگ اور منظم جرائم کے نیٹ ورکس کا کردار بھی سکیورٹی تعاون کے دائرے میں آتا ہے۔

دونوں جانب سے تعلقات کو باہمی احترام اور عملی تعاون کی بنیاد پر آگے بڑھانے کی خواہش ظاہر کی گئی۔ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب پاکستان داخلی سطح پر دہشت گرد حملوں اور سرحد پار سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے دوست ممالک کے ساتھ انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے روابط بڑھانے پر زور دے رہا ہے۔

اس ملاقات میں کسی مخصوص نئے معاہدے یا آپریشن کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم دونوں حکومتوں کا سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق مستقبل میں متعلقہ اداروں کے درمیان رابطوں، معلومات کے تبادلے اور مشترکہ اقدامات کے لیے سیاسی سطح کی حمایت فراہم کرتا ہے۔