سنگاپور: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے خبردار کیا ہے کہ عالمی معیشت ایک ساتھ کئی مختلف نوعیت کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ ان میں توانائی کی بلند قیمتیں، سرکاری قرض کا بڑھتا بوجھ اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑے پیمانے کی سرمایہ کاری سے جڑے معاشی و مالیاتی خطرات شامل ہیں۔ انہوں نے حکومتوں سے مالیاتی نظم و ضبط اور مہنگائی سے نمٹنے والی پالیسیوں پر توجہ دینے کی اپیل کی۔

رائٹرز کے مطابق سات اکتوبر کو آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے بینکاک میں ہونے والے سالانہ اجلاسوں سے پہلے خطاب میں جارجیوا نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات نے توانائی کی رسد پر منفی اثر ڈالا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت میں بڑھتی سرمایہ کاری مانگ کو سہارا دینے کے ساتھ بعض شعبوں میں قیمتوں کا دباؤ بھی بڑھا رہی ہے۔ ان کے بقول ان دو اثرات کا مختلف ممالک پر یکساں نتیجہ نہیں نکل رہا۔

آئی ایم ایف سربراہ نے بتایا کہ نئی عالمی معاشی پیش گوئیاں آئندہ اجلاسوں کے دوران جاری کی جائیں گی۔ ان کے مطابق جنگ سے متاثر معیشتوں میں ترقی کے تخمینوں میں زیادہ منفی نظرثانی سامنے آ سکتی ہے، جن میں یوکرین اور خلیجی ممالک شامل ہیں۔ انہوں نے اس خطاب میں 2026 کی مجموعی عالمی شرح نمو کی نئی عددی پیش گوئی نہیں دی۔ اس لیے موجودہ بیان کو آئی ایم ایف کی جانب سے کسی مخصوص نئے عالمی ترقیاتی تخمینے کا اعلان سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

توانائی کے حوالے سے جارجیوا نے تیل کی تقریباً 100 ڈالر فی بیرل سطح، ریفائنریوں کی محدود گنجائش اور آبنائے ہرمز سے مائع قدرتی گیس کی ترسیل کو درپیش خطرات کی طرف توجہ دلائی۔ ان کے مطابق سردیوں میں حرارتی ایندھن کی مانگ بڑھنے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ تنازع جلد ختم ہونے کی صورت میں بھی توانائی کی قیمتوں کا دباؤ کچھ عرصہ برقرار رہ سکتا ہے۔

قرض کے بوجھ پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی سرکاری قرض تاریخی طور پر بہت بلند سطح پر ہے اور موجودہ اندازوں کے مطابق 2030 سے پہلے دنیا کا مجموعی سرکاری قرض عالمی مجموعی پیداوار کے 100 فیصد سے تجاوز کر سکتا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ حکومتیں صرف زیادہ معاشی ترقی پر انحصار کر کے مالیاتی مسائل حل نہیں کر سکتیں؛ اس کے لیے قابل اعتماد درمیانی مدت کے بجٹ اور قرض انتظام کی ضرورت ہے۔

مصنوعی ذہانت کے میدان میں جارجیوا نے پیداوار اور روزگار میں ممکنہ بہتری کے ساتھ مالیاتی منڈیوں میں حد سے زیادہ بلند کمپنی قیمتوں کا خطرہ بھی بیان کیا۔ اگر سرمایہ کاروں کی متوقع آمدنی پوری نہ ہوئی تو اس سے وسیع مالیاتی دباؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مرکزی بینکوں کی خودمختاری اور قیمتوں کے استحکام کو اہم قرار دیا۔ ان کے یہ نکات ممکنہ خطرات کے بارے میں انتباہ ہیں، کسی مالیاتی بحران کے یقینی وقوع کی پیش گوئی نہیں۔